صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب فضل نسب النبي صلى الله عليه وسلم وتسليم الحجر عليه قبل النبوة:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی بزرگی اور پتھر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 2276 ترقیم شاملہ: -- 5938
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ جَمِيعًا، عَنْ الْوَلِيدِ ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ".
ابوعمار شداد سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:”اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5938]
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، ”اللہ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا منتخب کیا اور قریش سے بنو ہاشم کو چنا اور بنو ہاشم سے مجھے برگزیدہ فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5938]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2276
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5938
| الله اصطفى كنانة من ولد إسماعيل واصطفى قريشا من كنانة واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم |
جامع الترمذي |
3605
| الله اصطفى من ولد إبراهيم إسماعيل واصطفى من ولد إسماعيل بني كنانة واصطفى من بني كنانة قريشا واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم |
جامع الترمذي |
3606
| الله اصطفى كنانة من ولد إسماعيل واصطفى قريشا من كنانة واصطفى هاشما من قريش واصطفاني من بني هاشم |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5938 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5938
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قریش کنانہ کے بیٹے نضر کی اولاد میں اور بقول بعض فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں اور بنو ہاشم،
عبد مناف بن قصی بن کلاب کی اولاد ہیں اور آپ عبدالمطلب بن ہاشم کے بیٹے،
عبداللہ کی اولاد ہیں۔
فوائد ومسائل:
قریش کنانہ کے بیٹے نضر کی اولاد میں اور بقول بعض فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں اور بنو ہاشم،
عبد مناف بن قصی بن کلاب کی اولاد ہیں اور آپ عبدالمطلب بن ہاشم کے بیٹے،
عبداللہ کی اولاد ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5938]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3605
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا ۱؎ اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3605]
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا ۱؎ اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3605]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
صحیح مسلم میں اگلی حدیث کی طرح یہ ٹکڑا نہیں ہے،
یہ محمد بن مصعب کی روایت سے ہے جو کثیرالغلط ہیں،
اس لیے یہ ضعیف ہے،
معنی کے لحاظ سے بھی یہ ٹکڑا صحیح نہیں ہے،
اس سے دوسرے ان انبیاء کی نسب کی تنقیص لازم آتی ہے،
جو اسحاق علیہ السلام کی نسل سے ہیں،
اس کے بعد والے اجزاء میں اس طرح کی کوئی بات نہیں اس حدیث سے نبی کریم محمد بن عبداللہ عبدالمطلب کے سلسلہ نسب کے شروع سے اخیر تک اشرف نسب ہونے پر روشنی پڑتی ہے،
نبی قوم کے اشرف نسب ہی میں مبعوث ہوتا ہے،
تاکہ کسی کے لیے کسی بھی مرحلے میں اس کی اعلیٰ نسبی اس نبی پر ایمان لانے میں رکاوٹ نہ بن سکے،
یہ بھی اللہ کی اپنے بندوں پر ایک طرح کی مہربانی ہی ہے کہ اس کے اپنے وقت کے نبی پر ایمان لانے میں کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ سی بات رکاوٹ نہ بن سکے،
فَالْحَمْدُلِلّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔
نوٹ:
(پہلا فقرہ إِنَّ اللهَ اصْطَفٰيٰ مِنْ وُلدِ إِبْرِاهِيم إِسْمَاعِيل کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے،
اس سند میں محمد بن مصعب صدوق کثیر الغلط راوی ہیں،
اور آگے آنے والی حدیث میں یہ پہلا فقرہ نہیں ہے،
اس لیے یہ ضعیف ہے،
الصحیحة: 302)
وضاحت:
1؎:
صحیح مسلم میں اگلی حدیث کی طرح یہ ٹکڑا نہیں ہے،
یہ محمد بن مصعب کی روایت سے ہے جو کثیرالغلط ہیں،
اس لیے یہ ضعیف ہے،
معنی کے لحاظ سے بھی یہ ٹکڑا صحیح نہیں ہے،
اس سے دوسرے ان انبیاء کی نسب کی تنقیص لازم آتی ہے،
جو اسحاق علیہ السلام کی نسل سے ہیں،
اس کے بعد والے اجزاء میں اس طرح کی کوئی بات نہیں اس حدیث سے نبی کریم محمد بن عبداللہ عبدالمطلب کے سلسلہ نسب کے شروع سے اخیر تک اشرف نسب ہونے پر روشنی پڑتی ہے،
نبی قوم کے اشرف نسب ہی میں مبعوث ہوتا ہے،
تاکہ کسی کے لیے کسی بھی مرحلے میں اس کی اعلیٰ نسبی اس نبی پر ایمان لانے میں رکاوٹ نہ بن سکے،
یہ بھی اللہ کی اپنے بندوں پر ایک طرح کی مہربانی ہی ہے کہ اس کے اپنے وقت کے نبی پر ایمان لانے میں کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ سی بات رکاوٹ نہ بن سکے،
فَالْحَمْدُلِلّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔
نوٹ:
(پہلا فقرہ إِنَّ اللهَ اصْطَفٰيٰ مِنْ وُلدِ إِبْرِاهِيم إِسْمَاعِيل کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے،
اس سند میں محمد بن مصعب صدوق کثیر الغلط راوی ہیں،
اور آگے آنے والی حدیث میں یہ پہلا فقرہ نہیں ہے،
اس لیے یہ ضعیف ہے،
الصحیحة: 302)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3605]
شداد بن عبد الله القرشي ← واثلة بن الأسقع الليثي