🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فضل نسب النبي صلى الله عليه وسلم وتسليم الحجر عليه قبل النبوة:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی بزرگی اور پتھر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2276 ترقیم شاملہ: -- 5938
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ جَمِيعًا، عَنْ الْوَلِيدِ ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ".
ابوعمار شداد سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5938]
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، اللہ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا منتخب کیا اور قریش سے بنو ہاشم کو چنا اور بنو ہاشم سے مجھے برگزیدہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5938]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2276
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥واثلة بن الأسقع الليثي، أبو قرصافة، أبو محمد، أبو الأسقع، أبو الخطابصحابي
👤←👥شداد بن عبد الله القرشي، أبو عمار
Newشداد بن عبد الله القرشي ← واثلة بن الأسقع الليثي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← شداد بن عبد الله القرشي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأنطاكي
Newمحمد بن عبد الرحمن الأنطاكي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن مهران الجمال، أبو جعفر
Newمحمد بن مهران الجمال ← محمد بن عبد الرحمن الأنطاكي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5938
الله اصطفى كنانة من ولد إسماعيل واصطفى قريشا من كنانة واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم
جامع الترمذي
3605
الله اصطفى من ولد إبراهيم إسماعيل واصطفى من ولد إسماعيل بني كنانة واصطفى من بني كنانة قريشا واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم
جامع الترمذي
3606
الله اصطفى كنانة من ولد إسماعيل واصطفى قريشا من كنانة واصطفى هاشما من قريش واصطفاني من بني هاشم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5938 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5938
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قریش کنانہ کے بیٹے نضر کی اولاد میں اور بقول بعض فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں اور بنو ہاشم،
عبد مناف بن قصی بن کلاب کی اولاد ہیں اور آپ عبدالمطلب بن ہاشم کے بیٹے،
عبداللہ کی اولاد ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5938]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3605
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا ۱؎ اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3605]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
صحیح مسلم میں اگلی حدیث کی طرح یہ ٹکڑا نہیں ہے،
یہ محمد بن مصعب کی روایت سے ہے جو کثیرالغلط ہیں،
اس لیے یہ ضعیف ہے،
معنی کے لحاظ سے بھی یہ ٹکڑا صحیح نہیں ہے،
اس سے دوسرے ان انبیاء کی نسب کی تنقیص لازم آتی ہے،
جو اسحاق علیہ السلام کی نسل سے ہیں،
اس کے بعد والے اجزاء میں اس طرح کی کوئی بات نہیں اس حدیث سے نبی کریم محمد بن عبداللہ عبدالمطلب کے سلسلہ نسب کے شروع سے اخیر تک اشرف نسب ہونے پر روشنی پڑتی ہے،
نبی قوم کے اشرف نسب ہی میں مبعوث ہوتا ہے،
تاکہ کسی کے لیے کسی بھی مرحلے میں اس کی اعلیٰ نسبی اس نبی پر ایمان لانے میں رکاوٹ نہ بن سکے،
یہ بھی اللہ کی اپنے بندوں پر ایک طرح کی مہربانی ہی ہے کہ اس کے اپنے وقت کے نبی پر ایمان لانے میں کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ سی بات رکاوٹ نہ بن سکے،
فَالْحَمْدُلِلّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔

نوٹ:
(پہلا فقرہ إِنَّ اللهَ اصْطَفٰيٰ مِنْ وُلدِ إِبْرِاهِيم إِسْمَاعِيل کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے،
اس سند میں محمد بن مصعب صدوق کثیر الغلط راوی ہیں،
اور آگے آنے والی حدیث میں یہ پہلا فقرہ نہیں ہے،
اس لیے یہ ضعیف ہے،
الصحیحة: 302)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3605]