صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب تفضيل نبينا صلى الله عليه وسلم على جميع الخلائق:
باب: تمام مخلوقات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ زیادہ ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 2278 ترقیم شاملہ: -- 5940
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ ".
عبداللہ بن فروخ نے کہا: مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں قیامت کے دن (تمام) اولاد آدم کا سردار ہوں گا، پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر کھلے گی، سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول ہوگی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5940]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی، سب سے پہلے میں ہی سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5940]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2278
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5940
| أنا سيد ولد آدم يوم القيامة وأول من ينشق عنه القبر وأول شافع وأول مشفع |
جامع الترمذي |
3611
| أنا أول من تنشق عنه الأرض فأكسى الحلة |
سنن أبي داود |
4673
| أنا سيد ولد آدم وأول من تنشق عنه الأرض وأول شافع وأول مشفع |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5940 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5940
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سيد:
اس کو کہتے ہیں،
جو خیر اور خوبی میں تمام قوم پر فائق اور برتر ہو یا قوم مصائب اور مشکلات میں جس کی پناہ میں آئے اور وہ ان کے معاملات کو نپٹائے،
مصائب اور مشکلات کو برداشت کر کے قوم کا تحفظ کرے اور آپ کی اس سرداری کا ظہور قیامت کے دن تمام انسانوں کے سامنے ہو گا۔
فوائد ومسائل:
سيد:
اس کو کہتے ہیں،
جو خیر اور خوبی میں تمام قوم پر فائق اور برتر ہو یا قوم مصائب اور مشکلات میں جس کی پناہ میں آئے اور وہ ان کے معاملات کو نپٹائے،
مصائب اور مشکلات کو برداشت کر کے قوم کا تحفظ کرے اور آپ کی اس سرداری کا ظہور قیامت کے دن تمام انسانوں کے سامنے ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5940]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4673
انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4673]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4673]
فوائد ومسائل:
آپ ؐ نے حقائق بیان فرمائے، لیکن ایسا انداز ہر گز اختیار نہیں فرمایا جس میں دوسرے انبیا کی تنفیض ہو یا کوئی تقابل ہی سامنے آئے۔
آپ ؐ نے حقائق بیان فرمائے، لیکن ایسا انداز ہر گز اختیار نہیں فرمایا جس میں دوسرے انبیا کی تنفیض ہو یا کوئی تقابل ہی سامنے آئے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4673]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3611
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3611]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3611]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حسین بن یزید کوفی،
لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں حسین بن یزید کوفی،
لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3611]
Sahih Muslim Hadith 5940 in Urdu
عبد الله بن فروخ التيمي ← أبو هريرة الدوسي