🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب في فضل النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ , فَأُكْسَى الْحُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ يَقُومُ ذَلِكَ الْمَقَامَ غَيْرِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 13556) (ضعیف) (سند میں حسین بن یزید کوفی، لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (5766) // ضعيف الجامع الصغير (1311) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3611) إسناده ضعيف
أبو خالد الدالاني يزيد مدلس وعنعن (د 202) و أحاديث مسلم (196 ، 2278) وغيره تغني عنه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الله بن الحارث الأنصاري، أبو الوليد
Newعبد الله بن الحارث الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥المنهال بن عمرو الأسدي
Newالمنهال بن عمرو الأسدي ← عبد الله بن الحارث الأنصاري
ثقة
👤←👥يزيد بن عبد الرحمن الدالاني، أبو خالد
Newيزيد بن عبد الرحمن الدالاني ← المنهال بن عمرو الأسدي
صدوق يخطئ كثيرا
👤←👥عبد السلام بن حرب الملائي، أبو بكر
Newعبد السلام بن حرب الملائي ← يزيد بن عبد الرحمن الدالاني
ثقة
👤←👥الحسين بن يزيد الأنصاري، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن يزيد الأنصاري ← عبد السلام بن حرب الملائي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5940
أنا سيد ولد آدم يوم القيامة وأول من ينشق عنه القبر وأول شافع وأول مشفع
جامع الترمذي
3611
أنا أول من تنشق عنه الأرض فأكسى الحلة
سنن أبي داود
4673
أنا سيد ولد آدم وأول من تنشق عنه الأرض وأول شافع وأول مشفع
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3611 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3611
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حسین بن یزید کوفی،
لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3611]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4673
انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4673]
فوائد ومسائل:
آپ ؐ نے حقائق بیان فرمائے، لیکن ایسا انداز ہر گز اختیار نہیں فرمایا جس میں دوسرے انبیا کی تنفیض ہو یا کوئی تقابل ہی سامنے آئے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4673]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5940
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن آدم ؑ کی ساری اولاد کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے آپ کی قبر پھٹے گی اور سب سے پہلے آپ سفارش کریں گے اور سب سے پہلے آپ کی سفارش قبول ہوگی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5940]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سيد:
اس کو کہتے ہیں،
جو خیر اور خوبی میں تمام قوم پر فائق اور برتر ہو یا قوم مصائب اور مشکلات میں جس کی پناہ میں آئے اور وہ ان کے معاملات کو نپٹائے،
مصائب اور مشکلات کو برداشت کر کے قوم کا تحفظ کرے اور آپ کی اس سرداری کا ظہور قیامت کے دن تمام انسانوں کے سامنے ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5940]