علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب خصال الفطرة:
باب: فطرتی خصلتوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 261 ترقیم شاملہ: -- 604
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ "، قَالَ زَكَرِيَّاءُ: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ: الْمَضْمَضَةَ، زَادَ قُتَيْبَةُ، قَالَ وَكِيعٌ: انْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ.
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں وکیع نے زکریا بن ابی زائدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے، انہوں نے طلق بن حبیب سے، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس چیزیں (خصائل) فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کترنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی کھینچنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا، پانی سے استنجا کرنا۔“ زکریا نے کہا: مصعب نے بتایا: دسویں چیز میں بھول گیا ہوں لیکن وہ کلی کرنا ہو سکتا ہے۔ قتیبہ نے یہ اضافہ کیا کہ وکیع نے کہا: انتقاض الماء کے معنی استنجا کرنا ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 604]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس چیزیں ہیں جو امور فطرت میں سے ہیں: مونچھیں تراشوانا، داڑھی کو چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن کاٹنا یا تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بالوں کو مونڈنا، پانی سے استنجا کرنا۔“ زکریا رحمہ اللہ نے کہا: مصعب رحمہ اللہ نے بتایا: کہ دسویں چیز میں بھول گیا ہوں، ممکن ہے وہ کلی کرنا ہو۔ قتیبہ رحمہ اللہ نے وکیع رحمہ اللہ سے یہ اضافہ کیا، کہ «انتقاص الماء» کا معنی: استنجا کرنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 604]
ترقیم فوادعبدالباقی: 261
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) في الطهارة، باب: السواك من الفطرة برقم (53) والترمذى في ((جــامـعـه)) في الادب، باب: ما جاء في تقليم الاظفار برقم (2757) والنسائي في ((المجتبی)) 127/8 - 128 في الزينة، باب: الفطرة - وابن ماجه في ((سننه)) في الطهارة وسننها، باب: الفطرة برقم (293) انظر ((التحفة)) برقم (16188)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
604
| الفطرة قص الشارب وإعفاء اللحية والسواك واستنشاق الماء وقص الأظفار |
جامع الترمذي |
2757
| الفطرة قص الشارب وإعفاء اللحية والسواك والاستنشاق وقص الأظفار |
سنن ابن ماجه |
293
| الفطرة قص الشارب وإعفاء اللحية والسواك والاستنشاق بالماء وقص الأظفار وغسل البراجم ونتف الإبط وحلق العانة وانتقاص الماء يعني الاستنجاء |
سنن النسائى الصغرى |
5044
| الفطرة قص الشارب وقص الأظفار وغسل البراجم وإعفاء اللحية والسواك |
سنن أبي داود |
53
| عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك |
Sahih Muslim Hadith 604 in Urdu
عبد الله بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق