🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ:
باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2396 ترقیم شاملہ: -- 6202
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي، وقَالَ حَسَنٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ سَعْدًا ، قَالَ: " اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ، يُكَلِّمْنَهُ، وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ، قَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي، وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَ: نَعَمْ، أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا، فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ ".
ابراہیم بن سعد نے صالح سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید نے بتایا کہ انہیں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی، ان کے والد سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کی اجازت طلب کی، اس وقت قریش کی کچھ خواتین آپ کے پاس (بیٹھی) آپ سے گفتگو کر رہی تھیں، بہت بول رہی تھیں، ان کی آوازیں بھی اونچی تھیں، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ کھڑی ہو کر جلدی سے پردے میں جانے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی، آپ اس وقت ہنس رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ کے دندان مبارک کو مسکراتا رکھے! اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان عورتوں پر حیران ہوں جو میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، تمہاری آواز سنی تو فوراً پردے میں چلی گئیں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کا زیادہ حق ہے کہ یہ آپ سے ڈریں۔ پھر حضرت عمر کہنے لگے: اپنی جان کی دشمنو! مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ ان عورتوں نے کہا: ہاں، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت اور درشت مزاج ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے میں چلتے ہوئے ملتا ہے تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6202]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کی اجازت طلب کی، اس وقت قریش کی کچھ خواتین آپ کے پاس (بیٹھی) آپ سے گفتگو کر رہی تھیں، بہت بول رہی تھیں اور ان کی آوازیں بھی اونچی تھیں، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ کھڑی ہو کر جلدی سے پردے میں جانے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی، آپ اس وقت ہنس رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! «أَضْحَكَ اللّٰهُ سِنَّكَ» ”اللہ تعالیٰ آپ کے دندانِ مبارک کو مسکراتا رکھے!“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان عورتوں پر حیران ہوں جو میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں تمہاری آواز سنی تو فوراً پردے میں چلی گئیں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا زیادہ حق ہے کہ یہ آپ سے ڈریں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اپنی جان کی دشمنو! مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ ان عورتوں نے کہا: ہاں، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت اور درشت مزاج ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے میں چلتے ہوئے ملتا ہے تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2396
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥محمد بن سعد الزهري، أبو القاسم
Newمحمد بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن عبد الرحمن العدوي، أبو عمر
Newعبد الحميد بن عبد الرحمن العدوي ← محمد بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبد الحميد بن عبد الرحمن العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد بن حميد الكشي
ثقة حافظ له تصانيف
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← الحسن بن علي الهذلي
ثقة حجة
👤←👥منصور بن أبي مزاحم الأزدي، أبو نصر
Newمنصور بن أبي مزاحم الأزدي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6202 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6202
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
انت اغلظ و أفط:
ہر جگہ فعل التفضیل کا صیغہ،
زیادتی کے لیے استعمال نہیں ہوتا،
اس لیے یہاں مراد صرف عمر کی سختی اور درشتی کا اظہار ہے کہ وہ کسی کی رعایت اور لحاظ نہیں کرتے،
جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چشم پوشی فرما لیتے ہیں اور حضرت عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام و حمایت میں ان کے حق میں سخت الفاظ کہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ درست راستہ اختیار کرتے تھے،
شیطان ان کو راہ راست سے بھٹکا نہیں سکتا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6202]

Sahih Muslim Hadith 6202 in Urdu