صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب من فضائل عمر رضي الله تعالى عنه:
باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2399 ترقیم شاملہ: -- 6206
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ : أَخْبَرَنَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : " وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، وَفِي الْحِجَابِ، وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ ".
نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی، مقام ابراہیم (کو نماز کی جگہ بنانے) میں، حجاب میں اور بدر کے قیدیوں میں (کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔)“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6206]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تین باتیں اپنے رب کی منشا کے مطابق کیں، مقامِ ابراہیم کے بارے میں، پردہ کے بارے میں اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6206]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2399
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6206 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6206
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
وافقت ربي في ثلاث:
تین واقعات میں،
میں نے اپنے رب کی موافقت کی،
یعنی اللہ کا حکم میری مرضی اور منشا کے مطابق نازل ہوا،
چونکہ ان تین واقعات کے بارے میں،
اللہ کا حکم یہی تھا،
اگرچہ حکم بعد میں نازل ہوا،
اس لیے حضرت عمر نے کہا،
میری رائے اللہ کے حکم کے مطابق نکلی یا اللہ کے حکم کا تو پتہ نہیں تھا،
لیکن ادب و احترام اور اللہ کی عظمت کے پیش نظر یہ کہا،
میں نے موافقت کی،
یہ نہ کہا،
اللہ کا حکم میری رائے کے مطابق اترا اور تین میں حصر نہیں ہے،
کیونکہ حضرت عمر کی موافقات کی تعداد بیس سے زائد ہے،
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا اس موضوع پر مستقل رسالہ ہے۔
مفردات الحدیث:
وافقت ربي في ثلاث:
تین واقعات میں،
میں نے اپنے رب کی موافقت کی،
یعنی اللہ کا حکم میری مرضی اور منشا کے مطابق نازل ہوا،
چونکہ ان تین واقعات کے بارے میں،
اللہ کا حکم یہی تھا،
اگرچہ حکم بعد میں نازل ہوا،
اس لیے حضرت عمر نے کہا،
میری رائے اللہ کے حکم کے مطابق نکلی یا اللہ کے حکم کا تو پتہ نہیں تھا،
لیکن ادب و احترام اور اللہ کی عظمت کے پیش نظر یہ کہا،
میں نے موافقت کی،
یہ نہ کہا،
اللہ کا حکم میری رائے کے مطابق اترا اور تین میں حصر نہیں ہے،
کیونکہ حضرت عمر کی موافقات کی تعداد بیس سے زائد ہے،
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا اس موضوع پر مستقل رسالہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6206]
Sahih Muslim Hadith 6206 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي