صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا:
باب: سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2461 ترقیم شاملہ: -- 6329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ ، قَالَ: " شَهِدْتُ أَبَا مُوسَى ، وَأَبَا مَسْعُودٍ حِينَ مَاتَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَتُرَاهُ تَرَكَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، فَقَالَ: إِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنْ كَانَ لَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا وَيَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا ".
ابواسحاق سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے ابواحوص سے سنا، انہوں نے کہا: جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا میں نے اس وقت حضرت ابوموسی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضری دی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کوئی ایسا شخص چھوڑ گئے ہیں جو ان جیسا ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جب آپ نے یہ بات کہہ دی تو حقیقت یہ ہے کہ انہیں اس وقت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضری کی اجازت ہوتی تھی، جب ہمیں روک لیا جاتا تھا، اور وہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھے جب ہم موجود نہ ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6329]
انہوں نے کہا: جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، میں نے اس وقت حضرت ابو موسیٰ اور حضرت مسعود رضی اللہ عنہما کے ہاں حاضری دی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کوئی ایسا شخص چھوڑ گئے ہیں جو ان جیسا ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جب آپ نے یہ بات کہہ دی تو حقیقت یہ ہے کہ انہیں اس وقت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضری کی اجازت ہوتی تھی، جب ہمیں روک لیا جاتا تھا، اور وہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھے جب ہم موجود نہ ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6329]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2461
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6329 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6329
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن مسعود کو ان اوقات میں باریابی کا موقع مل جاتا تھا،
جبکہ دوسرے حاضر نہیں ہو سکتے تھے اور وہ ہر وقت آپ کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتے تھے،
جبکہ دوسرے ہر جگہ اور ہر مجلس میں آپ کے ساتھ موجود نہیں ہوتے تھے،
اگر علم میں ان کے ہم پلہ کوئی اور نہیں ہے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے،
وہ 32ھ میں حضرت عثمان کے دور خلافت میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابن مسعود کو ان اوقات میں باریابی کا موقع مل جاتا تھا،
جبکہ دوسرے حاضر نہیں ہو سکتے تھے اور وہ ہر وقت آپ کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتے تھے،
جبکہ دوسرے ہر جگہ اور ہر مجلس میں آپ کے ساتھ موجود نہیں ہوتے تھے،
اگر علم میں ان کے ہم پلہ کوئی اور نہیں ہے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے،
وہ 32ھ میں حضرت عثمان کے دور خلافت میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6329]
Sahih Muslim Hadith 6329 in Urdu
عبد الله بن قيس الأشعري ← أبو مسعود الأنصاري