پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
33. باب من فضائل عبد الله بن سلام رضي الله عنه:
باب: عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2483 ترقیم شاملہ: -- 6380
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لِحَيٍّ يَمْشِي إِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ".
عامر بن سعد نے کہا: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی زندہ چلتے پھرتے شخص کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا، بلاشبہ وہ جنت میں جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6380]
حضرت عامر بن سعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی زندہ چلتے پھرتے شخص کے بارے میں، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا یہ نہیں سنا کہ ”وہ جنتی ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6380]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2483
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3812
| ما سمعت النبي يقول لأحد يمشي على الأرض إنه من أهل الجنة إلا لعبد الله بن سلام فيه نزلت هذه الآية وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله |
صحيح مسلم |
6380
| ما سمعت رسول الله يقول لحي يمشي إنه في الجنة إلا لعبد الله بن سلام |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6380 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6380
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت سعد رضی اللہ عنہ جو خود عشرہ مبشرہ میں سے ہیں،
نے یہ بات حضرت عبداللہ بن سلام کی زندگی میں اس وقت کہی،
جب باقی حضرات جو حضرت سعد کے علم میں تھے،
فوت ہو چکے تھے،
یا جس اسلوب اور انداز میں یہ بات عبداللہ بن سلام کے بارے میں فرمائی تھی،
وہ انداز کسی اور کے لیے اختیار نہیں کیا تھا،
عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور سعید رضی اللہ عنہ فوت ہوئے ہیں۔
فوائد ومسائل:
حضرت سعد رضی اللہ عنہ جو خود عشرہ مبشرہ میں سے ہیں،
نے یہ بات حضرت عبداللہ بن سلام کی زندگی میں اس وقت کہی،
جب باقی حضرات جو حضرت سعد کے علم میں تھے،
فوت ہو چکے تھے،
یا جس اسلوب اور انداز میں یہ بات عبداللہ بن سلام کے بارے میں فرمائی تھی،
وہ انداز کسی اور کے لیے اختیار نہیں کیا تھا،
عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور سعید رضی اللہ عنہ فوت ہوئے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6380]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3812
3812. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ایسے شخص کی بابت جو زمین میں چلتا پھرتا ہو، یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے، سوائے عبداللہ بن سلام کے۔ اور یہ آیت انہی کے حق میں نازل ہوئی: ”اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس طرح کی گواہی بھی دی ہے۔۔“ راوی حدیث نے کہا: میں نہیں جانتا آیت کا حوالہ مالک کا قول ہے یا حدیث میں اس طرح تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3812]
حدیث حاشیہ:
حضرت عبداللہ بن سلام مشہورعالم دین تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علامات نبوت دیکھ کر مسلمان ہو گئے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے جنت کی بشارت پیش فرمائی اور آیت قرآن ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ (الأحقاف: 10)
میں اللہ نے ان کا ذکر خیر فرمایا دوسری حدیث میں بھی ان کی منقبت موجود ہے۔
حضرت عبداللہ بن سلام مشہورعالم دین تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علامات نبوت دیکھ کر مسلمان ہو گئے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے جنت کی بشارت پیش فرمائی اور آیت قرآن ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ (الأحقاف: 10)
میں اللہ نے ان کا ذکر خیر فرمایا دوسری حدیث میں بھی ان کی منقبت موجود ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3812]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3812
3812. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ایسے شخص کی بابت جو زمین میں چلتا پھرتا ہو، یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے، سوائے عبداللہ بن سلام کے۔ اور یہ آیت انہی کے حق میں نازل ہوئی: ”اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس طرح کی گواہی بھی دی ہے۔۔“ راوی حدیث نے کہا: میں نہیں جانتا آیت کا حوالہ مالک کا قول ہے یا حدیث میں اس طرح تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3812]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن خوش قسمت حضرات کو ایک مجلس میں جنت کی بشارت دی وہ عشرہ مبشرہ ہیں۔
ان میں راوی حدیث حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بھی شامل ہیں۔
لیکن حضرت سعد ؓ نے یہ حدیث اس وقت بیان فرمائی۔
جب عشرہ مبشرہ میں سے کوئی بھی زندہ نہ تھا اور اپنا نام اس لیے ذکر نہیں کیا کہ اپنے منہ اپنی تعریف کرنا موزوں اور مناسب نہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ابھی ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔
“اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ آگئے۔
(فتح الباري: 164/7 و صحیح ابن حبان (ابن بلبان)
حدیث: 7164)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن خوش قسمت حضرات کو ایک مجلس میں جنت کی بشارت دی وہ عشرہ مبشرہ ہیں۔
ان میں راوی حدیث حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بھی شامل ہیں۔
لیکن حضرت سعد ؓ نے یہ حدیث اس وقت بیان فرمائی۔
جب عشرہ مبشرہ میں سے کوئی بھی زندہ نہ تھا اور اپنا نام اس لیے ذکر نہیں کیا کہ اپنے منہ اپنی تعریف کرنا موزوں اور مناسب نہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ابھی ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔
“اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ آگئے۔
(فتح الباري: 164/7 و صحیح ابن حبان (ابن بلبان)
حدیث: 7164)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3812]
Sahih Muslim Hadith 6380 in Urdu
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري