یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
39. باب من فضائل الاشعريين رضي الله عنهم:
باب: اشعری لوگوں کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2500 ترقیم شاملہ: -- 6408
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ، جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ".
ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعری لوگ جب جہاد میں رسد کی کمی کا شکار ہو جائیں یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کا کھانا کم پڑ جائے تو ان کے پاس جو کچھ بچا ہو اسے ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں، پھر ایک ہی برتن سے اس کو آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“ (وہ میرے قریب ہیں اور میں ان سے قربت رکھتا ہوں۔) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6408]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اشعری لوگ جب جنگ کے موقعہ پر محتاج ہوجاتے ہیں یامدینہ میں ان کے اہل وعیال کا کھانا کم پڑجاتاہے تو سب کے پاس جو کچھ ہوتا ہے،اس کپڑے میں اکٹھا کرلیتے ہیں،پھر ایک برتن سےباہمی برابر بانٹ لیتے ہیں،سو وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6408]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2500
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2486
| الأشعريين إذا أرملوا في الغزو أو قل طعام عيالهم بالمدينة جمعوا ما كان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموه بينهم في إناء واحد بالسوية فهم مني وأنا منهم |
صحيح مسلم |
6408
| الأشعريين إذا أرملوا في الغزو أو قل طعام عيالهم بالمدينة جمعوا ما كان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموه بينهم في إناء واحد بالسوية فهم مني وأنا منهم |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6408 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6408
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
ارملو في الغزو:
جنگ میں ان کا کھانا ختم ہو جاتا ہے۔
(2)
فهم مني وانا منهم:
میرا اور ان کا طریقہ یا طرز عمل یکساں ہیں،
وہ میرے نقش قدم پر چلتے ہیں،
ان میں ہمدردی اور ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،
اس لئے وہ مل جل کر کھاتے ہیں اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا،
انسان بطور تحدیث نعمت یا جذبۂ شکر کے تحت اپنے فضائل و مناقب کا دوسروں کے سامنے اظہار کر سکتا ہے،
کیونکہ ان دونوں حدیثوں کا راوی حضرت ابو موسیٰ اشعری ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
ارملو في الغزو:
جنگ میں ان کا کھانا ختم ہو جاتا ہے۔
(2)
فهم مني وانا منهم:
میرا اور ان کا طریقہ یا طرز عمل یکساں ہیں،
وہ میرے نقش قدم پر چلتے ہیں،
ان میں ہمدردی اور ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،
اس لئے وہ مل جل کر کھاتے ہیں اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا،
انسان بطور تحدیث نعمت یا جذبۂ شکر کے تحت اپنے فضائل و مناقب کا دوسروں کے سامنے اظہار کر سکتا ہے،
کیونکہ ان دونوں حدیثوں کا راوی حضرت ابو موسیٰ اشعری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6408]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2486
2486. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انھوں نےکہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اشعری لوگ جہاد میں محتاج ہو جاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے بال بچوں کے پاس کھانا کم رہ جاتا ہے تو سب لوگ اپنااپنا موجودہ سامان ملا کر ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں۔ پھر آپس میں ایک پیمانے سے برابر تقسیم کر لیتے ہیں (اس عدل و مساوات کی وجہ سے) وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2486]
حدیث حاشیہ:
یعنی وہ خاص میرے طریق اور میری سنت پر ہیں۔
اور میں ان کے طریق پر ہوں۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ سفر یاحضر میں توشوں کا ملا لینا اور برابر برابر بانٹ لینا مستحب ہے۔
باب کی حدیث سے مطابقت ظاہر ہے:
و مطابقته للترجمة تؤخذ من قوله جمعوا ما کان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموہ بینهم (عمدة القاري)
یعنی وہ خاص میرے طریق اور میری سنت پر ہیں۔
اور میں ان کے طریق پر ہوں۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ سفر یاحضر میں توشوں کا ملا لینا اور برابر برابر بانٹ لینا مستحب ہے۔
باب کی حدیث سے مطابقت ظاہر ہے:
و مطابقته للترجمة تؤخذ من قوله جمعوا ما کان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموہ بینهم (عمدة القاري)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2486]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2486
2486. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انھوں نےکہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اشعری لوگ جہاد میں محتاج ہو جاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے بال بچوں کے پاس کھانا کم رہ جاتا ہے تو سب لوگ اپنااپنا موجودہ سامان ملا کر ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں۔ پھر آپس میں ایک پیمانے سے برابر تقسیم کر لیتے ہیں (اس عدل و مساوات کی وجہ سے) وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2486]
حدیث حاشیہ:
کھانے کے سامان کو اکٹھا کر کے اندازے سے تقسیم کرنا سفر کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ عمل حضر میں بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ اشعری قبیلے کے لوگوں کا عمل بیان ہوا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت جو کچھ بھی سامان خور و نوش ان کے پاس ہوتا اسے ملا کر برابر تقسیم کر لیتے۔
یہ شراکت کی بہترین قسم ہے۔
مشکل وقت میں ایسا کیا جا سکتا ہے اور اس میں کمی بیشی کا خیال نہیں رکھا جائے گا کہ ایک نے کم سامان جمع کیا تھا اور تقسیم میں اسے زیادہ مل گیا۔
کھانے کے سامان کو اکٹھا کر کے اندازے سے تقسیم کرنا سفر کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ عمل حضر میں بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ اشعری قبیلے کے لوگوں کا عمل بیان ہوا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت جو کچھ بھی سامان خور و نوش ان کے پاس ہوتا اسے ملا کر برابر تقسیم کر لیتے۔
یہ شراکت کی بہترین قسم ہے۔
مشکل وقت میں ایسا کیا جا سکتا ہے اور اس میں کمی بیشی کا خیال نہیں رکھا جائے گا کہ ایک نے کم سامان جمع کیا تھا اور تقسیم میں اسے زیادہ مل گیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2486]
Sahih Muslim Hadith 6408 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري