Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب فضل الصحابة ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم:
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین رحمها اللہ کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2532 ترقیم شاملہ: -- 6467
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: فِيكُمْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ".
عمرو (بن دینار) نے حضرت جابر (بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے خبر دیتے تھے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہو (یعنی تابعین میں سے کوئی ہے؟) لوگ کہیں گے کہ ہاں! پھر ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر آدمیوں کے لشکر جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے صحابی کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو (یعنی تبع تابعین میں سے)؟ تو لوگ کہیں گے کہ ہاں۔ پھر ان کی فتح ہو جائے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6467]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:" ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر لوگوں سے کچھ گروہ جہاد کے لیے نکلیں گے تو تو ان سے پوچھا جائے گا،کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو دیکھنے والی شخصیت موجود ہے؟تو وہ جواب دیں گے،ہاں،سو انہیں فتح مل جائےگی،پھر کچھ لوگ جہاد کے لیے نکلیں گے،ان سے پوچھاجائےگا،کیا تم میں رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھیوں کو دیکھنے والوں کو دیکھنے والی شخصیت موجود ہے؟سو وہ کہیں گے،ہاں تو انہیں فتح نصیب ہوگی۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6467]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2532
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجابر بن عبد الله الأنصاري ← أبو سعيد الخدري
صحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← أحمد بن عبدة الضبي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6467 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6467
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
فئام:
جماعت،
گروہ،
یہ فام،
(ٹکڑا،
حصہ)
سے ماخوذ ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا،
وہ صحابی ہے،
دیکھنے کا لفظ عموم اور اکثریت کے اعتبار سے ہے،
یہ معنی نہیں ہے کہ نابینا صحابی نہیں ہے،
کیونکہ اگر وہ بینا ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتا،
اس لیے مراد یہ ہے،
جس کو اسلام کی حالت میں کچھ وقت آپ کے ساتھ رہنے کی سعادت مل گئی اور اسلام پر فوت ہوا،
وہ صحابی ہے،
صحبت کسی وقت کی تحدید کی محتاج نہیں ہے،
کچھ وقت کی رفاقت ہی برکت کا باعث بن جائے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6467]