صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
51. باب بيان ان بقاء النبي صلى الله عليه وسلم امان لاصحابه وبقاء اصحابه امان للامة:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے صحابہ کو امن تھا اور صحابہ کی ذات سے امت کو امن تھا۔
ترقیم عبدالباقی: 2531 ترقیم شاملہ: -- 6466
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ حُسَيْنٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ مُجَمَّعِ بْنِ يَحْيَي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ جَلَسْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ، قَالَ: فَجَلَسْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا؟ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْنَا مَعَكَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ قُلْنَا نَجْلِسُ حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ: أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ ".
سعید بن ابی بردہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر فرمایا: ”ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا)۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں)۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ)۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6466]
حضرت ابوبردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ(ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے بیان کرتے ہیں ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر فرمایا کہ ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا)۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں)۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6466]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2531
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6466 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6466
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
امنة:
امن و سلامتی کا باعث و سبب ہیں،
جب ستارے جھڑ جائیں گے تو قیامت برپا ہو جائے گی،
جب میں ان کے درمیان نہیں رہوں گا تو فتنے برپا ہوں گے،
آپس میں جنگیں ہوں گی،
اعرابی ارتداد اختیار کریں گے،
دلوں میں الفت و محبت کی جگہ اختلاف و افتراق پیدا ہو گا اور صحابہ کرام کے اٹھ جانے کے بعد دین میں بدعتیں راہ پا لیں گی،
بدعتی فرقوں کا ظہور ہو گا اسلام سے بعد اور دوری پیدا ہو گی قرن شیطان طلوع ہو گا،
رومیوں کا غلبہ ہو گا،
مکہ و مدینہ کی حرمت پامال ہو گی،
اپنے اپنے وقت پر آپ کی یہ تمام پیشن گوئیاں پوری ہو رہی ہیں۔
مفردات الحدیث:
امنة:
امن و سلامتی کا باعث و سبب ہیں،
جب ستارے جھڑ جائیں گے تو قیامت برپا ہو جائے گی،
جب میں ان کے درمیان نہیں رہوں گا تو فتنے برپا ہوں گے،
آپس میں جنگیں ہوں گی،
اعرابی ارتداد اختیار کریں گے،
دلوں میں الفت و محبت کی جگہ اختلاف و افتراق پیدا ہو گا اور صحابہ کرام کے اٹھ جانے کے بعد دین میں بدعتیں راہ پا لیں گی،
بدعتی فرقوں کا ظہور ہو گا اسلام سے بعد اور دوری پیدا ہو گی قرن شیطان طلوع ہو گا،
رومیوں کا غلبہ ہو گا،
مکہ و مدینہ کی حرمت پامال ہو گی،
اپنے اپنے وقت پر آپ کی یہ تمام پیشن گوئیاں پوری ہو رہی ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6466]
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري