صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
53. باب بيان معنٰي قوله صلى الله عليه وسلم : «علٰي راس مائة سنة لا يبقٰي نفس منفوسة ممن هو موجود الآن »
باب: ”جو لوگ اس وقت زندہ ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں ہو گا“ کا مطلب۔
ترقیم عبدالباقی: 2538 ترقیم شاملہ: -- 6486
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَبْلُغُ مِائَةَ سَنَةٍ "، فَقَالَ سَالِمٌ: تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ عِنْدَهُ، إِنَّمَا هِيَ كُلُّ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ يَوْمَئِذٍ.
حصین نے سالم سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(آج) سانس لیتا ہوا شخص سو سال (کی مدت) تک نہیں پہنچے گا۔“ سالم نے کہا: ہم نے ان (حضرت جابر رضی اللہ عنہ) کے سامنے اس کے بارے میں گفتگو کی اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس وقت پیدا ہو چکا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6486]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"زندہ نفسوں میں سے کوئی سو سال کو نہیں پہنچے گا۔"حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،ہم نے ان کے سامنے اس کایہ معنی ایک دوسرے کا بتایا،اس کا مقصد یہ ہے،اس دن جو مخلوق زندہ تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2538
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6486
| ما من نفس منفوسة تبلغ مائة سنة |
صحيح مسلم |
6483
| ما من نفس منفوسة اليوم تأتي عليها مائة سنة وهي حية يومئذ |
صحيح مسلم |
6481
| ما على الأرض من نفس منفوسة تأتي عليها مائة سنة |
جامع الترمذي |
2250
| ما على الأرض نفس منفوسة يعني اليوم تأتي عليها مائة سنة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6486 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6486
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد کا معنی یہ نہیں ہے کہ فورا بعد یہ سوال ہوا کہ صرف اس قدر مقصود ہے،
یہ سوال اس کے بعد ہوا اور حضرت جابر کی روایت سے معلوم ہوا،
یہ آپ کی زندگی کے آخری ایام میں ہوا تھا اور آپ نے جواب میں پوری دنیا کی قیامت کا وقت نہیں بتایا تھا،
بلکہ اس وقت موجود افراد کی قیامت (موت)
کا تذکرہ فرمایا تھا کہ تمہیں اپنی فکر ہونی چاہیے۔
فوائد ومسائل:
غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد کا معنی یہ نہیں ہے کہ فورا بعد یہ سوال ہوا کہ صرف اس قدر مقصود ہے،
یہ سوال اس کے بعد ہوا اور حضرت جابر کی روایت سے معلوم ہوا،
یہ آپ کی زندگی کے آخری ایام میں ہوا تھا اور آپ نے جواب میں پوری دنیا کی قیامت کا وقت نہیں بتایا تھا،
بلکہ اس وقت موجود افراد کی قیامت (موت)
کا تذکرہ فرمایا تھا کہ تمہیں اپنی فکر ہونی چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6486]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2250
یہ پیشین گوئی کہ سو سال کے بعد آج کا کوئی آدمی زندہ نہ بچے گا۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2250]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2250]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اوردوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔
وضاحت:
1؎:
یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اوردوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2250]
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري