Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب بيان معنٰي قوله صلى الله عليه وسلم : «علٰي راس مائة سنة لا يبقٰي نفس منفوسة ممن هو موجود الآن »
باب: ”جو لوگ اس وقت زندہ ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں ہو گا“ کا مطلب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2538 ترقیم شاملہ: -- 6486
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَبْلُغُ مِائَةَ سَنَةٍ "، فَقَالَ سَالِمٌ: تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ عِنْدَهُ، إِنَّمَا هِيَ كُلُّ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ يَوْمَئِذٍ.
حصین نے سالم سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آج) سانس لیتا ہوا شخص سو سال (کی مدت) تک نہیں پہنچے گا۔ سالم نے کہا: ہم نے ان (حضرت جابر رضی اللہ عنہ) کے سامنے اس کے بارے میں گفتگو کی اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس وقت پیدا ہو چکا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6486]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"زندہ نفسوں میں سے کوئی سو سال کو نہیں پہنچے گا۔"حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،ہم نے ان کے سامنے اس کایہ معنی ایک دوسرے کا بتایا،اس کا مقصد یہ ہے،اس دن جو مخلوق زندہ تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2538
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيل
Newالحصين بن عبد الرحمن السلمي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة متقن
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي
ثقة ثبت
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← هشام بن عبد الملك الباهلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6486
ما من نفس منفوسة تبلغ مائة سنة
صحيح مسلم
6483
ما من نفس منفوسة اليوم تأتي عليها مائة سنة وهي حية يومئذ
صحيح مسلم
6481
ما على الأرض من نفس منفوسة تأتي عليها مائة سنة
جامع الترمذي
2250
ما على الأرض نفس منفوسة يعني اليوم تأتي عليها مائة سنة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6486 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6486
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد کا معنی یہ نہیں ہے کہ فورا بعد یہ سوال ہوا کہ صرف اس قدر مقصود ہے،
یہ سوال اس کے بعد ہوا اور حضرت جابر کی روایت سے معلوم ہوا،
یہ آپ کی زندگی کے آخری ایام میں ہوا تھا اور آپ نے جواب میں پوری دنیا کی قیامت کا وقت نہیں بتایا تھا،
بلکہ اس وقت موجود افراد کی قیامت (موت)
کا تذکرہ فرمایا تھا کہ تمہیں اپنی فکر ہونی چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6486]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2250
یہ پیشین گوئی کہ سو سال کے بعد آج کا کوئی آدمی زندہ نہ بچے گا۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2250]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اوردوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2250]