پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب منه
باب: یہ پیشین گوئی کہ سو سال کے بعد آج کا کوئی آدمی زندہ نہ بچے گا۔
حدیث نمبر: 2250
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ، يَعْنِي الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَبُرَيْدَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2250]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وانظر صحیح مسلم/فضائل الصحابة 53 (2538) (تحفة الأشراف: 2331)، و مسند احمد (3/305، 314، 322، 345، 385) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک قرن ختم ہو جائے گا اور دوسرا قرن شروع ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6486
| ما من نفس منفوسة تبلغ مائة سنة |
صحيح مسلم |
6483
| ما من نفس منفوسة اليوم تأتي عليها مائة سنة وهي حية يومئذ |
صحيح مسلم |
6481
| ما على الأرض من نفس منفوسة تأتي عليها مائة سنة |
جامع الترمذي |
2250
| ما على الأرض نفس منفوسة يعني اليوم تأتي عليها مائة سنة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2250 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2250
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اوردوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔
وضاحت:
1؎:
یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اوردوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2250]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6486
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"زندہ نفسوں میں سے کوئی سو سال کو نہیں پہنچے گا۔"حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،ہم نے ان کے سامنے اس کایہ معنی ایک دوسرے کا بتایا،اس کا مقصد یہ ہے،اس دن جو مخلوق زندہ تھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6486]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد کا معنی یہ نہیں ہے کہ فورا بعد یہ سوال ہوا کہ صرف اس قدر مقصود ہے،
یہ سوال اس کے بعد ہوا اور حضرت جابر کی روایت سے معلوم ہوا،
یہ آپ کی زندگی کے آخری ایام میں ہوا تھا اور آپ نے جواب میں پوری دنیا کی قیامت کا وقت نہیں بتایا تھا،
بلکہ اس وقت موجود افراد کی قیامت (موت)
کا تذکرہ فرمایا تھا کہ تمہیں اپنی فکر ہونی چاہیے۔
فوائد ومسائل:
غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد کا معنی یہ نہیں ہے کہ فورا بعد یہ سوال ہوا کہ صرف اس قدر مقصود ہے،
یہ سوال اس کے بعد ہوا اور حضرت جابر کی روایت سے معلوم ہوا،
یہ آپ کی زندگی کے آخری ایام میں ہوا تھا اور آپ نے جواب میں پوری دنیا کی قیامت کا وقت نہیں بتایا تھا،
بلکہ اس وقت موجود افراد کی قیامت (موت)
کا تذکرہ فرمایا تھا کہ تمہیں اپنی فکر ہونی چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6486]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2250 in Urdu
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري