Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب قوله صلى الله عليه وسلم: «الناس كإبل مائة لا تجد فيها راحلة»:
باب: آدمیوں کی مثال اونٹوں کے ساتھ۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2547 ترقیم شاملہ: -- 6499
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، واللفظ لمحمد، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجِدُونَ النَّاسَ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً ".
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو ایسے سو اونٹوں کی مثل پاؤ گے کہ آدمی ان میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6499]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم لوگوں کو سو اونٹوں کی طرح پاؤگے،ان میں آدمی کو ایک بھی سواری کے قابل نہیں ملتا۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6499]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← عبد بن حميد الكشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6498
الناس كالإبل المائة لا تكاد تجد فيها راحلة
صحيح مسلم
6499
تجدون الناس كإبل مائة لا يجد الرجل فيها راحلة
جامع الترمذي
2872
الناس كإبل مائة لا يجد الرجل فيها راحلة
سنن ابن ماجه
3990
الناس كإبل مائة لا تكاد تجد فيها راحلة
المعجم الصغير للطبراني
467
الناس كإبل مائة لا تجد فيها راحلة لا نعلم شيئا خيرا من ألف مثله إلا الرجل المؤمن
المعجم الصغير للطبراني
1003
الناس كإبل مائة لا تجد فيها راحلة ، قال : وقال النبى صلى الله عليه وسلم : لا نعلم شيئا خيرا من ألف مثله إلا الرجل المؤمن
مسندالحميدي
678
تجدون الناس كإبل مائة ليس فيها راحلة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6499 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6499
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الراحلة:
وہ اونٹ یا اونٹنی جو انتہائی اعلیٰ اور عمدہ ہو،
سواری اور بار برداری کے قابل ہو اور اوصاف کاملہ سے متصف ہو۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں انسان تو بہت ہیں،
لیکن ان میں اہل علم اور اہل فضل یا عالم باعمل بہت کم ہیں،
جس طرح اونٹ تو بےشمار ہیں،
لیکن ان میں عمدہ اور اعلیٰ سواری کے قابل بہت کم ہیں،
یا انسانوں میں عمدہ خصائل اور کامل اوصاف کے حامل لوگ بہت کم ہیں،
جنہیں دنیائے فانی کے مقابلہ میں عالم بقاء اور آخری جہان کی فکر زیادہ ہو اور دنیا سے دلچسپی اور رغبت واجبی سی ہو،
جیسے اونٹوں میں کامل اوصاف کے حامل اچھے اور عمدہ اونٹ بہت کم ہیں۔
یہ معنی بھی ہو سکتا ہے ایسے اشخاص جو جودوسخا سے متصف اور لوگوں کے بوجھ کو اٹھائیں اور ان کے قرض چکائیں ان کی تکالیف و مصائب کو دور کریں اور کم ہوں گے جیسا کہ سواری اور بار برادری کے قابل اونٹ بہت کم ہوتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6499]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3990
جن کے بارے میں امید ہے کہ وہ فتنوں سے محفوظ ہوں گے ان کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کے مانند ہے، جن میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پاؤ گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3990]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صاحب کمال لوگ تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں۔

(2)
عوام میں زیادہ تر لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی اہم ذمہ داری کو اٹھانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
اگر کامل اہلیت والا فرد نہ ملے تو ناقص اہلیت والے ہی سے کام چلانا چاہیے تاہم ان کی مناسب رہنمائی اور ان کے کام کی مناسب نگرانی ضروری ہے۔

(3)
مربی تربیت میں محنت کرے اور اس کا مطلوب نتیجہ نہ نکلے تو ضروری نہیں کہ تربیت میں نقص ہو۔
بعض اوقات تربیت پانے والوں کے نقص کی وجہ سے مطلوب نتائج حاصل نہیں ہوتے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3990]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2872
آدمی کی موت اور آرزو کی مثال۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ سو اونٹ کی طرح ہیں۔ آدمی ان میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہیں پاتا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال/حدیث: 2872]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی:
اچھے لوگ بہت کم ملتے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2872]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6498
6498. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے،انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگوں کی مثال تو ایسے اونٹوں کی طرح ہے، جن میں سے تو کسی ایک کو بھی سواری کے قابل نہیں پائے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6498]
حدیث حاشیہ:
آج کے مسلمان بکثرت ہر جگہ موجود ہیں مگر حقیقی مسلمان تلاش کئے جائیں تو مایوسی ہوگی۔
پھر بھی اللہ والوں سے زمین خالی نہیں ہے کم من عبا د اللہ لو أقسم علی اللہ لأبرہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6498]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6498
6498. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے،انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگوں کی مثال تو ایسے اونٹوں کی طرح ہے، جن میں سے تو کسی ایک کو بھی سواری کے قابل نہیں پائے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6498]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں لوگوں سے مراد صحابۂ کرام یا تابعین عظام نہیں کیونکہ ان کی فضیلت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان فرمائی ہے بلکہ ان سے مراد مستقبل بعید کے لوگ ہیں کہ ان میں شاذ شاذ لوگ احکام شریعت کی پابندی کریں گے، یعنی عوام الناس تعداد میں بہت زیادہ ہوں گے لیکن ان میں کام کے آدمی بہت کم ہوں گے۔
اکثریت، ان فرائض کو ضائع کر دے گی جو ان کے ذمے واجب الادا ہوں گے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین کے بعد والے لوگوں کی تخصیص کرنا درست نہیں کیونکہ اہل ایمان کی تعداد کفار کے مقابلے میں ہمیشہ کم ہوتی ہے، لہذا حدیث میں ذکر کردہ تقابل ہر وقت اور ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 408/11) (2)
آج مسلمان بکثرت ہر جگہ موجود ہیں مگر حقیقی مسلمان اگر تلاش کیے جائیں تو انتہائی مایوسی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اللہ والوں سے زمین کبھی خالی نہیں ہوتی۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6498]