🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه:
باب: جو شخص اللہ سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2684 ترقیم شاملہ: -- 6822
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ "، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ، فَقَالَ: " لَيْسَ كَذَلِكِ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ "،
خالد بن حارث بجیمی نے کہا: ہمیں سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے زرارہ سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے، اللہ اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! کیا اس سے موت کی ناپسندیدگی مراد ہے؟ ہم میں سے ہر شخص (طبیعتاً) موت کو ناپسند کرتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات نہیں ہے، لیکن جب مومن کو اللہ کی رحمت، اس کی رضامندی اور جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس (ناشکرے اور متکبر) سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6822]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو شخص اللہ سے ملنا محبوب رکھتا ہے۔ اللہ بھی اس سے ملنا پسندفرماتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ اللہ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔"تو میں نے پو چھا،اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !کیا اس سے مراد موت کی ناپسندیدگی ہے؟" تو ہم سب ہی موت کو ناپسند کرتے ہیں، سو آپ نے فرمایا:"بات اس طرح نہیں ہے بلکہ جب مومن کو اللہ کی رحمت اس کی رضا مندی اور اس کی جنت کی بشارت دی جاتی ہے،وہ اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کی اطلاع دی جاتی ہے تو وہ اللہ کو ملنا نا پسند کرتاہے۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6822]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2684
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥سعد بن هشام الأنصاري
Newسعد بن هشام الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥زرارة بن أوفى العامري، أبو حاجب
Newزرارة بن أوفى العامري ← سعد بن هشام الأنصاري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← زرارة بن أوفى العامري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الله الرزي، أبو جعفر
Newمحمد بن عبد الله الرزي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1837
من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه
سنن النسائى الصغرى
1838
من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه
صحيح مسلم
6822
من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه
جامع الترمذي
1066
من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه
جامع الترمذي
2309
من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه
Sahih Muslim Hadith 6822 in Urdu