یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب الدعاء عند النوم
باب: سوتے وقت کی دعا۔
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6882
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، وَاجْعَلْهُنَّ مِنْ آخِرِ كَلَامِكَ: فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ وَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ "، قَالَ: فَرَدَّدْتُهُنَّ لِأَسْتَذْكِرَهُنَّ، فَقُلْتُ: آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: قُلْ: آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ،
منصور نے سعد بن عبیدہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرو، پھر اپنی دائیں کروٹ لیٹو، پھر یہ کہو: «اللہم اسلمت وجہی الیک وفوضت امری الیک والجأت ظہری الیک رغبة و رہبة الیک لا ملجأ ولا منجا منک الا الیک، آمنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت» اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سپرد کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا اور اپنی کمر تیرے سہارے پر ٹکا دی، یہ سب تیری طرف سے امید اور تیرے خوف کے ساتھ کیا۔ تیرے سوا تجھ سے نہ کہیں پناہ مل سکتی ہے، نہ نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا۔ ان کلمات کو تم (اپنی زبان سے ادا ہونے والے) آخری کلمات بنا لو (ان کے بعد اور کچھ نہ بولو) تو اس رات اگر تمہیں موت آ گئی تو فطرت پر موت آئے گی۔“ (حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے ان کلمات کو یاد کرنے کے لیے انہیں دہرایا تو کہا: ”میں تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یوں) کہو: میں تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6882]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا::"جب اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرو تو نماز والا وضو کرو، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاؤ، پھر یہ دعا پڑھو، اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیر ی طرف متوجہ کیا اور اپنے تمام امور تیرے حوالہ کر دئیے اور تجھ ہی کو اپنا پشت پناہ لیا، اپنی ٹیک تیری طرف لگا دی، تیرے رحم و کرم کی امید کرتے ہوئے اور تیرے جلال و عذاب سے ڈرتے ہوئے، تیری گرفت سے بچنے کے لیے،تیرے سواکوئی جائے پناہ اور بچاؤ کی جگہ نہیں، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا، جو تونے اتاری اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جس کو تونے بھیجا، یہ وہ تیرا آخری بول ہویعنی اس کے بعد گفتگونہ کرنا تو اگر تم اپنی اس رات فوت ہو گئے تو تم اس حال میں فوت ہو گئے کہ تم فطرت (دین اسلام) پر ہوگے۔" حضرت براء کہتے ہیں میں نے یاد کرنے کے لیے ان کلمات کو دہرانا شروع کر دیا تو میں نے کہا:میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے، آپ نے فرمایا:"یوں کہو، میں تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تونے بھیجا ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6882]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6882 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6882
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس دعا میں اللہ پر اعتماد وتوکل،
یقین اور تسلیم و تفویض کی روح بھری ہوئی ہے اور ایمان کی تجدید بھی ہے،
اس لیے اس یقین و توکل پر فوت ہونا،
اسلام پر مرنا ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوا،
بستر پر جانے سے پہلے نماز والا وضوکر لینا پسندیدہ عمل ہے،
اس طرح انسان،
طہارت جسمانی اور دعا کے ذریعہ طہارت قلبی کو حاصل کر کے،
موت کے لیے تیار ہو کر سوتا ہے،
نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اور ادو وظائف اور دعاؤں کے الفاظ میں تبدیلی نہیں کرنا چاہیے،
کیونکہ آپ کے الفاظ کے اندر جو تاثیر اور اسرار و خواص ہیں،
کسی کے الفاظ اس کا بدل نہیں بن سکتے اور یہ بھی ممکن ہے،
اس اجرو ثواب اور فضیلت کا تعلق،
انھی الفاظ کے ساتھ ہو۔
فوائد ومسائل:
اس دعا میں اللہ پر اعتماد وتوکل،
یقین اور تسلیم و تفویض کی روح بھری ہوئی ہے اور ایمان کی تجدید بھی ہے،
اس لیے اس یقین و توکل پر فوت ہونا،
اسلام پر مرنا ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوا،
بستر پر جانے سے پہلے نماز والا وضوکر لینا پسندیدہ عمل ہے،
اس طرح انسان،
طہارت جسمانی اور دعا کے ذریعہ طہارت قلبی کو حاصل کر کے،
موت کے لیے تیار ہو کر سوتا ہے،
نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اور ادو وظائف اور دعاؤں کے الفاظ میں تبدیلی نہیں کرنا چاہیے،
کیونکہ آپ کے الفاظ کے اندر جو تاثیر اور اسرار و خواص ہیں،
کسی کے الفاظ اس کا بدل نہیں بن سکتے اور یہ بھی ممکن ہے،
اس اجرو ثواب اور فضیلت کا تعلق،
انھی الفاظ کے ساتھ ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6882]
Sahih Muslim Hadith 6882 in Urdu
سعد بن عبيدة السلمي ← البراء بن عازب الأنصاري