صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب الدُّعَاءِ عِنْدَ النَّوْمِ
باب: سوتے وقت کی دعا۔
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6882
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، وَاجْعَلْهُنَّ مِنْ آخِرِ كَلَامِكَ: فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ وَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ "، قَالَ: فَرَدَّدْتُهُنَّ لِأَسْتَذْكِرَهُنَّ، فَقُلْتُ: آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: قُلْ: آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ،
منصور نے سعد بن عبیدہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرو، پھر اپنی دائیں کروٹ لیٹو، پھر یہ کہو: «اللہم اسلمت وجہی الیک وفوضت امری الیک والجأت ظہری الیک رغبة و رہبة الیک لا ملجأ ولا منجا منک الا الیک، آمنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت» اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سپرد کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا اور اپنی کمر تیرے سہارے پر ٹکا دی، یہ سب تیری طرف سے امید اور تیرے خوف کے ساتھ کیا۔ تیرے سوا تجھ سے نہ کہیں پناہ مل سکتی ہے، نہ نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا۔ ان کلمات کو تم (اپنی زبان سے ادا ہونے والے) آخری کلمات بنا لو (ان کے بعد اور کچھ نہ بولو) تو اس رات اگر تمہیں موت آ گئی تو فطرت پر موت آئے گی۔“ (حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے ان کلمات کو یاد کرنے کے لیے انہیں دہرایا تو کہا: ”میں تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یوں) کہو: میں تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6882]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا::"جب اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرو تو نماز والا وضو کرو، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاؤ، پھر یہ دعا پڑھو، اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیر ی طرف متوجہ کیا اور اپنے تمام امور تیرے حوالہ کر دئیے اور تجھ ہی کو اپنا پشت پناہ لیا، اپنی ٹیک تیری طرف لگا دی، تیرے رحم و کرم کی امید کرتے ہوئے اور تیرے جلال و عذاب سے ڈرتے ہوئے، تیری گرفت سے بچنے کے لیے،تیرے سواکوئی جائے پناہ اور بچاؤ کی جگہ نہیں، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا، جو تونے اتاری اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جس کو تونے بھیجا، یہ وہ تیرا آخری بول ہویعنی اس کے بعد گفتگونہ کرنا تو اگر تم اپنی اس رات فوت ہو گئے تو تم اس حال میں فوت ہو گئے کہ تم فطرت (دین اسلام) پر ہوگے۔" حضرت براء کہتے ہیں میں نے یاد کرنے کے لیے ان کلمات کو دہرانا شروع کر دیا تو میں نے کہا:میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے، آپ نے فرمایا:"یوں کہو، میں تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تونے بھیجا ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6882]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6883
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنًا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّ مَنْصُورًا أَتَمُّ حَدِيثًا وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ، وَإِنْ أَصْبَحَ أَصَابَ خَيْرًا.
حصین بن سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی، مگر منصور نے زیادہ مکمل حدیث بیان کی اور حصین کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ”اگر یہ (کہنے والا) صبح کرے گا تو خیر حاصل کرے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6883]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن مذکورہ بالا روایت زیادہ مکمل ہے اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے۔" اگر وہ صبح کرے گا،اسے خیرو بھلائی حاصل ہو گی۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6883]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ مِنَ اللَّيْلِ،
محمد بن مثنیٰ نے ابوداؤد سے اور ابن بشار نے عبدالرحمان اور ابوداؤد دونوں سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، وہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ رات کو اپنی خواب گاہ میں جانے لگے تو (دعا کرتے ہوئے) یہ کہے: «اللہم اسلمت نفسی الیک ووجہت وجہی الیک والجأت ظہری الیک وفوضت امری الیک رغبة و رہبة الیک لا ملجأ ولا منجا منک الا الیک، آمنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی اور اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کر لیا اور اپنی کمر تیرے سہارے پر ٹکا دی اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، یہ سب تجھی سے امید کرتے ہوئے اور تجھی سے ڈرتے ہوئے کیا۔ تجھ سے خوف کے سوا نہ پناہ کی کوئی جگہ ہے نہ نجات کی۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا، پھر اگر (اس رات) اسے موت آ گئی تو فطرت پر موت آئے گی۔“ ابن بشار نے اپنی حدیث میں: ”رات کے وقت“ (بستر پر جانے لگے) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6884]
حضرت براء عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا جب وہ رات کو اپنے بستر پر جانے کا ارادہ کرے تو یوں کہے:"اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا اور اپنا چہرہ (رخ) تیری طرف متوجہ کیا اور اپنی پشت کی ٹیک تیری طرف کر دی اور اپنے تمام معاملات تیرے حوالہ کر دئیے تیرے(ثواب) کی رغبت و شوق اور تیری پکڑسے ڈرتے ہوئے تیرے علاوہ تجھ سے بچنے کے لیے کوئی ٹھکانہ اور نجات کی جگہ نہیں ہے میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا، جوتونے نازل کی ہے اور اس رسول پر جسے تو نے بھیجا سوا گروہ مر گیا تو دین پر مرے گا۔"ابن بشار نے اپنی حدیث من اللیل (رات کو) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6884]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6885
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ يَا فُلَانُ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا،
ابواحوص نے ابواسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”اے فلاں! جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو۔۔۔“ اس کے بعد عمرہ بن مرہ کی حدیث کے مانند ہے۔ (مگر ابواحوص نے منصور کی روایت کی طرح) یہ الفاظ کہے: ”(اور میں ایمان لایا) تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا، پھر اگر تم اس رات مر گئے تو (عین) فطرت پر مرو گے اور اگر تم نے (زندہ حالت میں) صبح کر لی تو خیر (و بھلائی) حاصل کرو گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6885]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمایا:"اے فلاں جب تم اپنے بستر پر جانا چاہو۔"آگے بذکورہ بالا اس فرق کے ساتھ ہے، آپ نے فرمایا:"اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا، اگر تم اپنی اس رات فوت ہو گئے، فطرت پر فوت ہو گئے اور اگر صبح کرو گے تو خیر پاؤ گے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6885]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6886
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا.
شعبہ نے ابواسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، اسی کے مانند، اور انہوں نے ”اگر تم نے (زندہ حالت میں) صبح کی تو خیر حاصل کرو گے“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6886]
امام صاحب یہی روایت اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا،آگے مذکورہ بالا روایت ہے اور اس میں یہ لفظ نہیں ہیں:"اور اگر تم صبح اٹھو گے۔خیر پاؤ گے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6886]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2711 ترقیم شاملہ: -- 6887
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ أَبَي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ "، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ".
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا کرتے: «باسمک اللہم احیٰ واموت» ”اے اللہ! میں تیرے نام سے جیتا ہوں اور تیرے نام سے وفات پاؤں گا“ اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے: «الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور» ”اللہ کی حمد ہے جس نے ہمیں وفات دینے کے بعد زندہ کر دیا اور اسی کی طرف (قیامت کے روز) زندہ ہو کر جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6887]
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر جاتے تو دعا کرتے:"اےاللہ!تیرے ہی نام پر زندہ ہوں اور تیرے ہی نام پر میں مرتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے:" حمدو شکر اس اللہ کے لیے جس نے موت طاری کرنے کے بعد ہمیں زندہ کیا اور بالآخر اس کے پاس اٹھنا ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6887]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2711
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2712 ترقیم شاملہ: -- 6888
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ: " اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ؟، فَقَالَ: مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَمِعْتُ.
عقبہ بن مکرم اور ابوبکر بن نافع نے کہا: ہمیں غندر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے خالد سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن حارث کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے ایک شخص سے کہا کہ جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یہ دعا کرے: «اللہم خلقت نفسی وانت توفیہا، لک مماتہا ومحیاہا، ان احییتہا فاحفظہا وان امتہا فاغفرلہا، اللہم انی اسألک العافیة» ”اے اللہ! میری جان کو تو نے پیدا کیا اور تو ہی اس کو موت دے گا، اس جان کی موت بھی اور زندگی بھی تیرے ہی لیے ہے، اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرما اور اگر تو اس کو موت دے تو اس کی مغفرت کرنا، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت مانگتا ہوں۔“ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ان سے جو حضرت عمر سے زیادہ افضل ہیں (میں نے یہ حدیث) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سنی ہے۔) ابن نافع نے اپنی روایت میں کہا: عبداللہ بن حارث سے روایت ہے، یہ نہیں کہا: میں نے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6888]
عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں تو انہوں نے ایک آدمی کو فرمایا جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یوں کہے۔ اے میرے اللہ! تونے ہی مجھے پیدا کیا ہے اور توہی جب چاہے گا۔ میری روح قبض کر لے گا۔میرا مرنا اور جینا تیرے ہی اختیار میں ہے، اگر تونے نفس کو (مجھے) زندہ رکھے تو(ہر گناہ و بلا سے اور ہر فتنہ و فساد سے) اس کی حفاظت فر اور اگر تو اس کو موت دے دے تو اسے معاف فر اور اسے (میرے نفس کو) بخش دے اے میرے اللہ! میں تجھ سے معافی اور عافیت کا سائل ہوں، یعنی تو میرے لیے معافی کا اور دنیا و آخرت میں عافیت کا فیصلہ فرما:"تو اس آدمی نے ان سے پوچھا:" کیا آپ نے یہ دعا اپنے والد ماجد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ہے؟ انھوں نے جواب دیا۔ اس ہستی سے جو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے! [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6888]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2712
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2713 ترقیم شاملہ: -- 6889
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ: كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ " وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
جریر نے سہیل سے روایت کی، انہوں نے کہا: (میرے والد) ابوصالح ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر دائیں کروٹ لیٹے، پھر دعا کرے: «اللہم رب السماوات ورب الارض ورب العرش العظیم، ربنا ورب کل شیء، فالق الحب والنوٰی، منزل التوریٰة والانجیل والفرقان، اعوذ بک من شر کل شیء انت آخذ بناصیتہ، اللہم انت الاول فليس قبلک شیء، وانت الآخر فليس بعدک شیء، وانت الظاہر فليس فوقک شیء، وانت الباطن فليس دونک شیء، اقض عنا الدین واغننا من الفقر» ”اے اللہ! اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، دانے اور کھجور کی گٹھلی کو چیر (کر پودے اور درخت اگا) دینے والے! تورات، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں، تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی شے نہیں، تو ہی ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی شے نہیں، تو ہی باطن ہے، تجھ سے پیچھے کوئی شے نہیں، ہماری طرف سے (ہمارا) قرض ادا کر اور ہمیں فقر سے غنا عطا فرما۔“ وہ اس حدیث کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ (آگے) اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6889]
حضرت سہیل رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ابو صالح رحمۃ اللہ علیہ ہمیں یہ تلقین کرتے کہ جب ہم سے کوئی سونا چاہے تو وہ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے، پھر یوں دعا کرے۔"اے میرے اللہ! آسمانوں کے مالک زمین کے مالک اور عرش عظیم کے مالک ہمارے اور ہر چیز کے مالک دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اے تورات،انجیل اور فرقان (قرآن) کو نازل کرنے والے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی تیر ےقابو میں ہے۔یعنی ہر مخلوق کے شر سے اے اللہ! تو ہی سب سے پہلا (اول) ہے کوئی چیز تجھ سے پہلے نہیں ہے تو ہی سب کے بعد باقی رہنے والا (آخر) ہے کوئی چیز تیرے بعد نہیں ہے توہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے تو ہی باطن ہے(مخفی ہے) تجھ سے درے،(تجھ سے زیادہ چھپی) کوئی چیز نہیں ہے میرا قرض ادا کردے(مجھے تمام حقوق اور ذمہ داریاں پوری کرنے کی توفیق دے)اور مجھے فقرواحتیاج سے مستغنی کر دے حضرت سہیل یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6889]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2713
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2713 ترقیم شاملہ: -- 6890
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذْنَا مَضْجَعَنَا أَنْ نَقُولَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَقَالَ: مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا،
خالد طحان نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم اپنے بستروں پر لیٹیں تو یہ دعا کریں، جریر کی حدیث کے مانند (اور خالد طحان نے ”ہر اس چیز کے شر سے“ کے بجائے) کہا: «اعوذ بک من شر کل دابة انت آخذ بناصیتہا» ”ہر اس جاندار کے شر سے (تیری پناہ مانگتا ہوں) جسے تو نے اس کی پیشانی سے پکڑا ہوا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6890]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تلقین فرماتے تھے کہ جب ہم اپنے بستروں پر لیٹیں تو یہ کلمات کہیں، آگے مذکورہ بالا دعا، اس فرق کے ساتھ ہے آپ نے فرمایا:"ہر جاندار کی برائی اور شر سے جس کی پیشانی تیرے قابو میں ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6890]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2713
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2713 ترقیم شاملہ: -- 6891
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ لَهَا قُولِي: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ.
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خادم مانگنے کے لیے آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواب میں) ان سے کہا: ”(بیٹی!) تم کہا کرو: «اللہم رب السماوات السبع» اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب!“ جس طرح سہیل نے اپنے والد (ابوصالح) سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6891]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں،خادم طلب کرنے کے لیے حاضر ہوئیں تو آپ نے فرمایا:"یہ کہو اے ساتوں آسمانوں کے مالک۔" آگے حضرت سہیل رحمۃ اللہ علیہ والی دعا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ/حدیث: 6891]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2713
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة