صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب الدعاء عند النوم
باب: سوتے وقت کی دعا۔
ترقیم عبدالباقی: 2713 ترقیم شاملہ: -- 6889
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ: كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ " وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
جریر نے سہیل سے روایت کی، انہوں نے کہا: (میرے والد) ابوصالح ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر دائیں کروٹ لیٹے، پھر دعا کرے: «اللہم رب السماوات ورب الارض ورب العرش العظیم، ربنا ورب کل شیء، فالق الحب والنوٰی، منزل التوریٰة والانجیل والفرقان، اعوذ بک من شر کل شیء انت آخذ بناصیتہ، اللہم انت الاول فليس قبلک شیء، وانت الآخر فليس بعدک شیء، وانت الظاہر فليس فوقک شیء، وانت الباطن فليس دونک شیء، اقض عنا الدین واغننا من الفقر» ”اے اللہ! اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، دانے اور کھجور کی گٹھلی کو چیر (کر پودے اور درخت اگا) دینے والے! تورات، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں، تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی شے نہیں، تو ہی ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی شے نہیں، تو ہی باطن ہے، تجھ سے پیچھے کوئی شے نہیں، ہماری طرف سے (ہمارا) قرض ادا کر اور ہمیں فقر سے غنا عطا فرما۔“ وہ اس حدیث کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ (آگے) اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6889]
حضرت سہیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوصالح رحمہ اللہ ہمیں یہ تلقین کرتے کہ جب ہم میں سے کوئی سونا چاہے تو وہ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے، پھر یوں دعا کرے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» ”اے میرے اللہ! آسمانوں کے مالک، زمین کے مالک اور عرشِ عظیم کے مالک، ہمارے اور ہر چیز کے مالک، دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، اے تورات، انجیل اور فرقان (قرآن) کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قابو میں ہے، یعنی ہر مخلوق کے شر سے۔ اے اللہ! تو ہی سب سے پہلا (اول) ہے، کوئی چیز تجھ سے پہلے نہیں ہے، تو ہی سب کے بعد باقی رہنے والا (آخر) ہے، کوئی چیز تیرے بعد نہیں ہے، تو ہی ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو ہی باطن ہے (مخفی ہے)، تجھ سے درے (تجھ سے زیادہ چھپی) کوئی چیز نہیں ہے، میرا قرض ادا کر دے (مجھے تمام حقوق اور ذمہ داریاں پوری کرنے کی توفیق دے) اور مجھے فقر و احتیاج سے مستغنی کر دے۔“ حضرت سہیل رحمہ اللہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6889]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2713
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحیح مسلم |
6889
| اللهم رب السموات ورب الأرض ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء فالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والفرقان أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته اللهم أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء |
جامع الترمذي |
3481
| اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوى أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين |
جامع الترمذي |
3400
| اللهم رب السموات ورب الأرضين وربنا ورب كل شيء وفالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء والظاهر فليس فوقك شيء والباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفق |
سنن أبي داود |
5051
| اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء |
سنن ابن ماجه |
3831
| اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عنا الدين وأغننا من الفقر |
سنن ابن ماجه |
3873
| اللهم رب السموات والأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بك من شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من ال |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6889 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظہ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث، صحيح مسلم: 6889
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں بھی سونے کے لیے داہنی کروٹ پر لیٹنے کی روایت کی گئی ہے اور آپ کا اپنا معمول بھی یہی تھا، کیونکہ اس کروٹ پر لیٹنے کی صورت میں، دل جو بائیں پہلو میں ہے، لٹکتا رہتا ہے اور لیٹے وقت ذکر و دعا اور توجہ الی اللہ کے لیے یہی شکل زیادہ مناسب ہے۔
اور بقول علامہ ابن جوزی، اطباء کے نزدیک بدن کے لیے یہی مناسب ہے، کیونکہ دائیں پہلو پر لیٹنے سے کھانا نیچے چلا جاتا ہے اور پھر بعد میں بائیں پہلو پر لیٹنے سے وہ ہضم ہو جاتا ہے اور یہ دعا ان لوگوں کے زیادہ مناسب حال ہے، جو مقروض ہیں اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا ہیں، بندہ یہ دعا کرے اور اپنے رب کریم سے یہ امید رکھے کہ وہ رزق کی کشادگی کی صورت پیدا فرما دے گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں بھی سونے کے لیے داہنی کروٹ پر لیٹنے کی روایت کی گئی ہے اور آپ کا اپنا معمول بھی یہی تھا، کیونکہ اس کروٹ پر لیٹنے کی صورت میں، دل جو بائیں پہلو میں ہے، لٹکتا رہتا ہے اور لیٹے وقت ذکر و دعا اور توجہ الی اللہ کے لیے یہی شکل زیادہ مناسب ہے۔
اور بقول علامہ ابن جوزی، اطباء کے نزدیک بدن کے لیے یہی مناسب ہے، کیونکہ دائیں پہلو پر لیٹنے سے کھانا نیچے چلا جاتا ہے اور پھر بعد میں بائیں پہلو پر لیٹنے سے وہ ہضم ہو جاتا ہے اور یہ دعا ان لوگوں کے زیادہ مناسب حال ہے، جو مقروض ہیں اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا ہیں، بندہ یہ دعا کرے اور اپنے رب کریم سے یہ امید رکھے کہ وہ رزق کی کشادگی کی صورت پیدا فرما دے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6889]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3481
باب:۔۔۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ (بنت رسول) رضی الله عنہا آپ کے پاس ایک خادم مانگنے آئیں، آپ نے ان سے کہا: تم یہ دعا پڑھتی رہو: «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوى أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب، عرش عظیم کا رب، اے ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب، توراۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے، زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3481]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ (بنت رسول) رضی الله عنہا آپ کے پاس ایک خادم مانگنے آئیں، آپ نے ان سے کہا: تم یہ دعا پڑھتی رہو: «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوى أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب، عرش عظیم کا رب، اے ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب، توراۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے، زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3481]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب،
عرش عظیم کا رب،
اے ہمارے رب! اور ہرچیز کے رب،
تو راۃ،
انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے،
زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے والے،
میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر چیز کے شر سے،
جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے،
تو پہلا ہے (شروع سے ہے) تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے،
تو سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں،
تو سب سے ظاہر (یعنی اوپر ہے)،
تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے،
تو پوشیدہ ہے سب کی نظروں سے،
لیکن تم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے،
اے اللہ! تو میرے اوپر سے قرض اتار دے،
اور مجھے محتاجی سے نکال کر مالدار کر دے۔
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب،
عرش عظیم کا رب،
اے ہمارے رب! اور ہرچیز کے رب،
تو راۃ،
انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے،
زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے والے،
میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر چیز کے شر سے،
جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے،
تو پہلا ہے (شروع سے ہے) تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے،
تو سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں،
تو سب سے ظاہر (یعنی اوپر ہے)،
تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے،
تو پوشیدہ ہے سب کی نظروں سے،
لیکن تم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے،
اے اللہ! تو میرے اوپر سے قرض اتار دے،
اور مجھے محتاجی سے نکال کر مالدار کر دے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3481]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3400
سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کہے: «اللهم رب السموات ورب الأرضين وربنا ورب كل شيء وفالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء والظاهر فليس فوقك شيء والباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہر چیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے، توراۃ، انجیل اور قرآن نازل ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3400]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کہے: «اللهم رب السموات ورب الأرضين وربنا ورب كل شيء وفالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء والظاهر فليس فوقك شيء والباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہر چیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے، توراۃ، انجیل اور قرآن نازل ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3400]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہرچیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے،
توراۃ،
انجیل اور قرآن نازل کرنے والے،
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر والی چیز کے شر سے،
تو ہی ہر شر وفساد کی پیشانی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔
تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے،
تو ہی سب سے آخر ہے،
تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے،
تو سب سے ظاہر (اوپر) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے،
تو باطن (نیچے وپوشیدہ) ہے تیرے سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے،
مجھ پر جو قرض ہے اسے تو ادا کر دے اور تو مجھے محتاجی سے نکال کر غنی کر دے۔
وضاحت:
1؎:
اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہرچیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے،
توراۃ،
انجیل اور قرآن نازل کرنے والے،
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر والی چیز کے شر سے،
تو ہی ہر شر وفساد کی پیشانی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔
تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے،
تو ہی سب سے آخر ہے،
تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے،
تو سب سے ظاہر (اوپر) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے،
تو باطن (نیچے وپوشیدہ) ہے تیرے سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے،
مجھ پر جو قرض ہے اسے تو ادا کر دے اور تو مجھے محتاجی سے نکال کر غنی کر دے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3400]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3873
بستر پر لیٹتے وقت کیا دعا پڑھے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بك من شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب! ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! توراۃ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں زمین پر رینگنے وال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3873]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بك من شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب! ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! توراۃ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں زمین پر رینگنے وال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3873]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی صفات کا ذکر کرکے دعا کرنی چاہیے۔
(2)
اللہ تعالیٰ جسمانی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔
اور بندوں کومادی رزق دینے کےلئے دانے اور گھٹلیاں پھاڑ کر فصلیں اور درخت اُگاتا ہے۔
اور روحانی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔
اس مقصد کے لئے اس نے نبوت کا سلسلہ جاری فرما کر آسمانی کتابیں نازل کی ہیں۔
(3)
اس دعا میں قرض کی ادایئگی کےلئے اللہ کی صفت رزاقیت کا واسطہ دیا گیا ہے۔
(4)
زمان ومکان اللہ کی مخلوق ہیں۔
اس لئے وہ ان سب پر حاوی ہے۔
وہ زمان کے لحاظ سے اول وآخر ہے۔
اور مکان کے لحاظ سے تمام مخلوقات سے برتر (الظاہر)
بھی ہے۔
اور اپنی قدرت وعلم کے لحاظ سے قریب ترین (الباطن)
بھی۔
(5)
فقر کے ساتھ اگر اللہ کی طرف توجہ اور عبادت میں انہماک ہو تو یہ محمود ہے۔
تاکہ دل مال ودولت میں مشغول ہوکر اللہ سے غافل نہ ہوجائے۔
لیکن اگر فقر وفاقہ اس حد تک پہنچ جائے۔
کہ بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ہوں۔
اور بندہ پیٹ بھرنے کےلئے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوجائے۔
یا مقروض ہوجائے جب کہ قرض کی ادایئگی کی کوئی اُمید نظر نہ آرہی ہو تو ایسا فقر مذموم ہے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی صفات کا ذکر کرکے دعا کرنی چاہیے۔
(2)
اللہ تعالیٰ جسمانی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔
اور بندوں کومادی رزق دینے کےلئے دانے اور گھٹلیاں پھاڑ کر فصلیں اور درخت اُگاتا ہے۔
اور روحانی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔
اس مقصد کے لئے اس نے نبوت کا سلسلہ جاری فرما کر آسمانی کتابیں نازل کی ہیں۔
(3)
اس دعا میں قرض کی ادایئگی کےلئے اللہ کی صفت رزاقیت کا واسطہ دیا گیا ہے۔
(4)
زمان ومکان اللہ کی مخلوق ہیں۔
اس لئے وہ ان سب پر حاوی ہے۔
وہ زمان کے لحاظ سے اول وآخر ہے۔
اور مکان کے لحاظ سے تمام مخلوقات سے برتر (الظاہر)
بھی ہے۔
اور اپنی قدرت وعلم کے لحاظ سے قریب ترین (الباطن)
بھی۔
(5)
فقر کے ساتھ اگر اللہ کی طرف توجہ اور عبادت میں انہماک ہو تو یہ محمود ہے۔
تاکہ دل مال ودولت میں مشغول ہوکر اللہ سے غافل نہ ہوجائے۔
لیکن اگر فقر وفاقہ اس حد تک پہنچ جائے۔
کہ بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ہوں۔
اور بندہ پیٹ بھرنے کےلئے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوجائے۔
یا مقروض ہوجائے جب کہ قرض کی ادایئگی کی کوئی اُمید نظر نہ آرہی ہو تو ایسا فقر مذموم ہے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3873]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3831
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم طلب کرنے کے لیے آئیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”میرے پاس تو خادم نہیں ہے جو میں تجھے دوں“، (یہ سن کر) وہ واپس چلی گئیں، اس کے بعد آپ خود ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”جو چیز تم نے طلب کی تھی وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا اس سے بہتر چیز تمہیں بتاؤں“؟ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم کہو کہ نہیں، بلکہ مجھے وہ چیز زیادہ پسند ہے جو خادم سے بہتر ہو، چنانچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہی کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3831]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم طلب کرنے کے لیے آئیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”میرے پاس تو خادم نہیں ہے جو میں تجھے دوں“، (یہ سن کر) وہ واپس چلی گئیں، اس کے بعد آپ خود ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”جو چیز تم نے طلب کی تھی وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا اس سے بہتر چیز تمہیں بتاؤں“؟ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم کہو کہ نہیں، بلکہ مجھے وہ چیز زیادہ پسند ہے جو خادم سے بہتر ہو، چنانچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہی کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3831]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ذکر دنیا کے مال سے بہتر ہے۔
(2)
اللہ تعالیٰ اول وآخر ہے۔
وقت مخلوقا ت پر اثر انداز ہوتا ہے، خالق پر نہیں، اس کے لیے سب زمانے برابر ہیں۔
(3)
اللہ تعالیٰ سب سے بلند و بالا اور سب پر غالب ہے، اور اس کی قدرت مخلوق کے ہر ذرے پر محیط ہے اور علم و قدرت کے لحاظ سے وہ سب سے قریب ہے۔
(3)
اللہ تعالیٰ سے اس کی صفات کے وسیلے سے دعا کرنی چاہیے۔
(4)
فقر و غنا اللہ کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا قرض و فقر سے نجات کے لیے مسنون دعا کے ذریعے سے اللہ کی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ذکر دنیا کے مال سے بہتر ہے۔
(2)
اللہ تعالیٰ اول وآخر ہے۔
وقت مخلوقا ت پر اثر انداز ہوتا ہے، خالق پر نہیں، اس کے لیے سب زمانے برابر ہیں۔
(3)
اللہ تعالیٰ سب سے بلند و بالا اور سب پر غالب ہے، اور اس کی قدرت مخلوق کے ہر ذرے پر محیط ہے اور علم و قدرت کے لحاظ سے وہ سب سے قریب ہے۔
(3)
اللہ تعالیٰ سے اس کی صفات کے وسیلے سے دعا کرنی چاہیے۔
(4)
فقر و غنا اللہ کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا قرض و فقر سے نجات کے لیے مسنون دعا کے ذریعے سے اللہ کی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3831]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5051
سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شىء وأنت الآخر فليس بعدك شىء وأنت الظاهر فليس فوقك شىء وأنت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! آسمانوں و زمین کے مالک! اے ہر چیز کے پالنہار! اے دانے اگانے والے! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے! اے توراۃ، انجیل اور قرآن اتارنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ہر شر والے کے شر سے جس کی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5051]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شىء وأنت الآخر فليس بعدك شىء وأنت الظاهر فليس فوقك شىء وأنت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! آسمانوں و زمین کے مالک! اے ہر چیز کے پالنہار! اے دانے اگانے والے! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے! اے توراۃ، انجیل اور قرآن اتارنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ہر شر والے کے شر سے جس کی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5051]
فوائد ومسائل:
1۔
ان مبارک کلمات میں ایک مسلمان کے لئے اظہار عبودیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت توحید ربوبیت۔
توحید اسماءوصفات اور نظام رسالت پر ایمان کی تجدید کا اظہار ہے۔
2۔
اور بالخصوص قرض اور فقیری سے پناہ مانگنے کی تعلیم ہے۔
کہ اس سبب سے انسان کا سکون وچین غارت ہوجاتا ہے۔
عزت دائو پر لگ جاتی ہے۔
علاوہ ازیں دین ودنیا کی اور بھی ڈھیروں مصیبتیں آڑے آجاتی ہیں۔
1۔
ان مبارک کلمات میں ایک مسلمان کے لئے اظہار عبودیت کے ساتھ ساتھ توحید الوہیت توحید ربوبیت۔
توحید اسماءوصفات اور نظام رسالت پر ایمان کی تجدید کا اظہار ہے۔
2۔
اور بالخصوص قرض اور فقیری سے پناہ مانگنے کی تعلیم ہے۔
کہ اس سبب سے انسان کا سکون وچین غارت ہوجاتا ہے۔
عزت دائو پر لگ جاتی ہے۔
علاوہ ازیں دین ودنیا کی اور بھی ڈھیروں مصیبتیں آڑے آجاتی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5051]
Sahih Muslim Hadith 6889 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي