🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب قوله تعالى: {إن الحسنات يذهبن السيئات}:
باب: اللہ تعالی کا فرمان: ”نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں“۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2764 ترقیم شاملہ: -- 7006
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللَّهِ، قَالَ: هَلْ حَضَرْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " قَدْ غُفِرَ لَكَ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے حد (لگنے والے کام) کا ارتکاب کر لیا ہے، مجھ پر حد قائم کیجیے۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: (تب) نماز کا وقت آ گیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب نماز پڑھ لی تو کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کیا ہے، میرے بارے میں اللہ کی کتاب کا (جو) فیصلہ (ہے اسے) نافذ فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوا؟ اس نے عرض کی: ہاں، فرمایا: تیرا گناہ بخش دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 7006]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر حد قائم کریں، اور نماز کا وقت ہو گیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب اس نے نماز ادا کر لی تو کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے گناہ کیا ہے، مجھ پر اللہ کا قانون (حکم) جاری فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو ہمارے ساتھ نماز میں موجود تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے بخشا جا چکا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 7006]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2764
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن عاصم القيسي، أبو عثمان
Newعمرو بن عاصم القيسي ← همام بن يحيى العوذي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عمرو بن عاصم القيسي
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6823
أليس قد صليت معنا قال نعم قال فإن الله قد غفر لك
صحيح مسلم
7006
هل حضرت الصلاة معنا قال نعم قال قد غفر لك
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7006 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7006
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس پر علماء امت کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی انسان ایسے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے،
جس پر حد مقرر ہے اور وہ گناہ شہادت یا اقرار سے ثابت ہوتا ہے تو اس پر حد لگانا ضروری ہے،
لیکن اگر اللہ تعالیٰ اس گناہ کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور گناہ گار بھی اس کا اعتراف نہیں کرتا تو وہ توبہ و استغفار سے معاف ہو جاتا ہے،
بعض روایات میں زنا کرنے کا ذکر ہے تا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے زناکے محرکات و دواعی یا اس کی پیش خیمہ کو زنا سمجھ لیا یا اس کے أصبحت حدا،
میں حد کو پہنچ گیا،
کہنے سے راوی نے،
زنا سمجھ لیا،
کیونکہ اگر اس نے صراحتا زنا کا اقرارواعتراف کرلیا تھا تو پھر اس سے وضاحت طلب کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ اصل صورتحال کیا ہے،
کیونکہ کبیرہ گناہ توبہ سے معاف ہو سکتا ہے،
محض نماز پڑھنے سے معاف نہیں ہو سکتا،
الایہ کہ نماز کی دعاؤں میں اللهم اغفرلی کو عام کر لیا جائے،
اس کو توبہ پر مشتمل مان لیا جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7006]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6823
6823. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہوکر کہا: اللہ کے رسول! مجھ پر حد واجب ہو چکی ہے، آپ اسے مجھ پر جاری فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق مزید پوچھ گچھ نہیں کی۔ پھر نماز کا وقت ہو گیا تو اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص آپ کے پاس گیا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے، آپ کتاب اللہ کے مطابق اسے مجھ پر جاری کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا: ہاں پڑھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالٰی نے تیرا گناہ معاف کر دیا ہے، یا فرمایا: تیری حد معاف کر دی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6823]
حدیث حاشیہ:
غیرواضح اقرار پر آپ نے اس کو یہ بشارت پیش فرمائی آج بھی یہ بشارت قائم ہے۔
اگر کوئی شخص امام کے سامنے گول مول بیان کرے کہ میں نے حدی جرم کیا ہے تو امام اس کی پردہ پوشی کر سکتا ہے۔
تشریح:
بعضوں نے اس حدیث سے یہ دلیل لی ہے کہ اگر کوئی حدی گناہ کر کے توبہ کرتا ہوا امام یا حاکم کے سامنے آئے تو اس پر سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6823]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6823
6823. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہوکر کہا: اللہ کے رسول! مجھ پر حد واجب ہو چکی ہے، آپ اسے مجھ پر جاری فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق مزید پوچھ گچھ نہیں کی۔ پھر نماز کا وقت ہو گیا تو اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص آپ کے پاس گیا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے، آپ کتاب اللہ کے مطابق اسے مجھ پر جاری کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا: ہاں پڑھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالٰی نے تیرا گناہ معاف کر دیا ہے، یا فرمایا: تیری حد معاف کر دی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6823]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ اس واقعے کے علاوہ ہے کیونکہ اس میں ہے کہ آدمی نے کسی عورت سے بوس وکنار کیا تھا اور اس واقعے میں ہے کہ اس نے کوئی قابل حد عمل کیا تھا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یہ دو واقعات ہیں اور انھوں نے ان واقعات سے دو الگ الگ حکم ثابت کیے ہیں۔
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص مبہم طریقے سے حد کا اعتراف کرتا ہے تو قاضی کو چاہیے کہ اس پر پردہ ڈالے، اس کی کرید نہ کرے کیونکہ ایسا کرنا تجسس ہے جس کے متعلق قرآن نے حکم امتناعی جاری کیا ہے۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس واقعے کی مزید تفصیل ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم گھر سے نماز کے ارادے سے نکلے تھے تو تم نے اچھی طرح وضو کیا تھا، پھر تم نے ہمارے ساتھ نماز باجماعت ادا کی تو ان کاموں کی بدولت اللہ تعالیٰ نے تمھاری حد یا تمھارے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔
(صحیح مسلم، التوبة، حدیث: 7007(2765)
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اس حدیث کے متعلق لوگوں کے تین موقف لکھے ہیں:
٭جرم کے واضح اعتراف اور غیر مبہم تعین کے بعد واجب ہوتی ہے جبکہ اقرار کرنے والا بار بار اس کا اصرار بھی کرے۔
٭مذکورہ واقعہ صرف اسی شخص کے ساتھ خاص ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعۂ وحی اس سے مطلع کیا گیا تھا۔
٭حد کا عمل کرنے کے بعد (معاملہ عدالت میں جانے سے پہلے)
اگر توبہ کرلی جائے تو اس کی بدولت حد ساقط ہو جاتی ہے۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اس آخری موقف کو ترجیح دی ہے۔
(فتح الباري: 165/12)
بہرحال امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی غیر واضح بیان دے کہ میں نے حد والا جرم کیا ہے تو امام اس کی پردہ پوشی کر سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف پردہ پوشی کی بلکہ گناہوں کی بخشش کی بشارت بھی دی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6823]

Sahih Muslim Hadith 7006 in Urdu