صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب صفات المنافقين واحكامهم
باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
ترقیم عبدالباقی: 2774 ترقیم شاملہ: -- 7027
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ، فَأَعْطَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَسَأَزِيدُهُ عَلَى سَبْعِينَ "، قَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 "،
ابواسامہ نے کہا: ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: جب عبداللہ بن ابی ابن سلول مر گیا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے سوال کیا کہ آپ اپنی قمیص اس کو عطا فرمائیں، جس میں وہ اپنے باپ کو کفن دیں تو آپ نے (وہ قمیص) ان کو عطا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز جنازہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور (التجا کرنے کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے (کے ایک کنارے) کو پکڑ لیا اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے، اس نے فرمایا ہے: «اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً» ”آپ ان کے لیے استغفار کریں یا استغفار نہ کریں، خواہ آپ ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کریں“ اور میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں گا۔“ (عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: یقیناً وہ منافق ہے، (مگر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی، اس پر اللہ عزوجل نے (واضح حکم) نازل فرمایا: «وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ» ”اور ان (منافقین) میں سے جو شخص مر جائے آپ کبھی اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7027]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جب عبداللہ بن ابی ابن سلول فوت ہو گیا،اس کا بیٹا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اپنی قمیص عنایت فرمائیں وہ اسے اپنے باپ کاکفن بنائے تو آپ نے اسے اپنی قمیص عطا فرمائی، پھر اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، چنانچہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے، اللہ کا فرمان ہے، ان کے لیے بخشش طلب کریں۔ یا بخشش طلب نہ کریں،اگر تم ان کے لیے ستر دفعہ بھی بخشش طلب کروگے(اللہ انہیں معاف نہیں فرمائے گا)اور میں ستر دفعہ سے زیادہ استغفار کروں گا۔"حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا وہ تو منافق ہے سو آپ نے اس پر نماز پڑھی چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری،"آپ ان میں سے جو بھی مرجائے،کبھی اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔"(توبہ آیت نمبر84۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7027]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2774
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان عبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت | |
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة حماد بن أسامة القرشي ← عبيد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5796
| نهاك الله أن تصلي على المنافقين فقال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم |
صحيح البخاري |
1269
| أنا بين خيرتين قال الله تعالي استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم فصلى عليه فنزلت ولا تصل على أحد منهم مات أبدا |
صحيح مسلم |
7027
| خيرني الله فقال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة وسأزيده على سبعين قال إنه منافق فصلى عليه رسول الله أنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره |
صحيح مسلم |
6207
| خيرني الله فقال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة وسأزيد على سبعين قال إنه منافق فصلى عليه رسول الله أنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره |
سنن النسائى الصغرى |
1901
| أنا بين خيرتين قال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم فصلى عليه أنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره |
سنن ابن ماجه |
1523
| أنا بين خيرتين استغفر لهم أو لا تستغفر لهم فأنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره |
بلوغ المرام |
438
| اعطني قميصك اكفنه فيه، فاعطاه صلى الله عليه وآله وسلم قميصه |
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي