صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب صفات المنافقين واحكامهم
باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
ترقیم عبدالباقی: 2775 ترقیم شاملہ: -- 7029
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ قَلِيلٌ، فِقْهُ قُلُوبِهِمْ كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَتُرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ؟، وَقَالَ الْآخَرُ: يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا، وَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَهُوَ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ وَلا جُلُودُكُمْ سورة فصلت آية 22 " الْآيَةَ،
محمد بن ابی عمر مکی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے منصور سے حدیث بیان کی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: تین آدمی بیت اللہ کے پاس اکٹھے ہوئے، (ان میں سے) دو قریشی تھے اور ایک ثقفی تھا، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی تھا، ان کے دلوں کا فہم کم تھا، ان کے پیٹوں کی چربی بہت تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں، اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا: اگر ہم اونچی آواز سے بات کریں تو سنتا ہے اور آہستہ بات کریں تو نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا: اگر ہم اونچا بولیں تو وہ سنتا ہے تو پھر ہم آہستہ بولیں تو بھی سنتا ہے۔ اس پر اللہ عزوجل نے (یہ آیتیں) نازل فرمائیں: «وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ» ”تم اس لیے (اپنی باتیں) نہیں چھپا رہے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہاری کھالیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7029]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، بیت اللہ کے پاس تین اشخاص دو قریشی اور ایک ثقفی آیا، یا دو ثقفی اور ایک قریشی جمع ہوئے، ان کے دلوں میں سوجھ بوجھ کم تھی اور ان کے پیٹوں کی چربی بہت تھی، چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اللہ ہماری بات سنتا ہے؟“ دوسرے نے کہا: ”اگر بلند آواز ہو تو سنتا ہے، اگر ہم پست آواز میں پوشیدہ بات کریں نہیں سنتا۔“ اور تیسرے نے کہا: ”اگر وہ ہماری گفتگو سنتا ہے تو پھر وہ ہماری آہستہ پوشیدہ گفتگو بھی سن لیتا ہے۔“ سو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری: ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ﴾ [سورة فصلت: 22] ”اور تمہیں یہ خوف یا اندیشہ نہ تھا کہ تمہارے خلاف، تمہارے کان تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے گواہی دیں گے، بلکہ تم یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کاموں کو نہیں جانتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7029]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2775
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7029 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7029
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
عام طور پر بھاری بھرکم اور موٹے پیٹوں والے،
عقل و فراست سے محروم ہوتے ہیں اورآیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کہ دن انسان کے اعضاء وجوارح اور اس کے رونگٹے اس کے خلاف گواہی دیں گے،
انسان دوسروں سے تو چھپ سکتا ہے،
لیکن اپنے جسم اور اعضاء سے کیسے چھپ سکتا ہے،
لیکن اسے یہ احساس ہی نہیں ہے،
میرے جسم اور اعضاء ہی اپنے ہرہر عمل کا اظہار کردیں گے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
عام طور پر بھاری بھرکم اور موٹے پیٹوں والے،
عقل و فراست سے محروم ہوتے ہیں اورآیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کہ دن انسان کے اعضاء وجوارح اور اس کے رونگٹے اس کے خلاف گواہی دیں گے،
انسان دوسروں سے تو چھپ سکتا ہے،
لیکن اپنے جسم اور اعضاء سے کیسے چھپ سکتا ہے،
لیکن اسے یہ احساس ہی نہیں ہے،
میرے جسم اور اعضاء ہی اپنے ہرہر عمل کا اظہار کردیں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7029]
Sahih Muslim Hadith 7029 in Urdu
عبد الله بن سخبرة الأزدي ← عبد الله بن مسعود