صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب إن في الجنة شجرة يسير الراكب في ظلها مائة عام لا يقطعها:
باب: جنت میں اس درخت کا بیان جس کا سایہ سو سال تک چلنے پر بھی ختم نہیں ہوتا۔
ترقیم عبدالباقی: 2828 ترقیم شاملہ: -- 7139
قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ ، فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا ".
ابوحازم نے کہا: میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش زرقی کو سنائی تو انہوں نے کہا: مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے (جس کے سائے میں) ایک تیز رفتار چھریرے کھوڑے پر سوار شخص سو سال چلے تو بھی اسے قطع نہ کر سکے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7139]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جنت میں ایک ایسا درخت ہے،کہ بہترین تربیت یا فتہ گھوڑے پر سوار سو(100) سال چلے گا۔"اس کو پار نہ کر سکے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7139]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2828
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥النعمان بن أبي عياش الزرقي، أبو سلمة النعمان بن أبي عياش الزرقي ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم سلمة بن دينار الأعرج ← النعمان بن أبي عياش الزرقي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
7139
| في الجنة شجرة يسير الراكب الجواد المضمر السريع مائة عام ما يقطعها |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7139 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7139
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں اور راحت کے سامان،
اپنے بندوں کے لیے جنت میں پیدا کیے ہیں،
ان میں سے ایک قسم کے وہ طویل و عریض سایہ دار درخت ہیں،
جن کا سایہ اتنے وسیع رقبہ پر پڑتا ہے کہ بہترین اور تربیت یافتہ گھوڑے پر سوار بھی سو سال میں اس کو طے نہیں کرسکے گا۔
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں اور راحت کے سامان،
اپنے بندوں کے لیے جنت میں پیدا کیے ہیں،
ان میں سے ایک قسم کے وہ طویل و عریض سایہ دار درخت ہیں،
جن کا سایہ اتنے وسیع رقبہ پر پڑتا ہے کہ بہترین اور تربیت یافتہ گھوڑے پر سوار بھی سو سال میں اس کو طے نہیں کرسکے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7139]
النعمان بن أبي عياش الزرقي ← أبو سعيد الخدري