صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب ذكر ابن صياد:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2927 ترقیم شاملہ: -- 7348
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ لِي: " أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ؟ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَدْ وُلِدَ لِي، أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ، وَلَا مَكَّةَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ، وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ، وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ، قَالَ: فَلَبَسَنِي ".
داود نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مکہ کی طرف جاتے ہوئے (راستے میں) میرا اور ابن صیاد کا ساتھ ہو گیا۔ اس نے مجھ سے کہا: میں کچھ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا: ”اس کے بچے نہیں ہوں گے“؟ کہا: میں نے کہا: کیوں نہیں! (سنا تھا۔) اس نے کہا: میرے بچے ہوئے ہیں۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے نہیں سنا تھا: ”وہ (دجال) مدینہ میں داخل ہو گا اور نہ مکہ میں“؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! اس نے کہا: میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا اور اب مکہ کی طرف جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: پھر اپنی بات کے آخر میں اس نے مجھ سے کہا: دیکھیں! اللہ کی قسم! میں اس (دجال) کی جائے پیدائش، اس کے رہنے کی جگہ اور وہ کہاں ہے سب جانتا ہوں۔ (اس طرح) اس نے (اپنی حیثیت کے بارے میں) مجھے الجھا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7348]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ جاتے ہوئے ابن صیاد کا ساتھی بنا تو اس نے مجھے کہا: ہاں، مجھے لوگوں سے تکلیف پہنچی ہے، وہ خیال کرتے ہیں کہ میں دجال ہوں، کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”اس کی اولاد نہیں ہو گی۔“؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (میں نے سنا ہے)۔ اس نے کہا: تو میری تو اولاد ہے، کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا: ”وہ مدینہ میں داخل ہو گا نہ مکہ میں۔“؟ میں نے کہا: ضرور سنا ہے، اس نے کہا: میں مدینہ میں پیدا ہوا ہوں اور اب میں مکہ جانا چاہتا ہوں، پھر اس نے اپنی باتوں کے آخر میں مجھے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ اس کا مولد (جائے پیدائش) کہاں ہے اور اب وہ کہاں ہے، اس طرح اس نے مجھے شک و شبہ میں ڈال دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7348]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7348 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7348
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
معلوم ہوتا ہے،
ابن صیاد ہی دجال اکبر ہے،
آخری زمانہ میں جب وہ اپنی اصلیت میں ظاہر ہوگا تو پھر نہ مدینہ میں داخل ہو سکے گا اور نہ مکہ میں،
اور نہ اس کی اولاد ہوگی،
اپنے ابتدائی دور میں اس کے اندر دجل وفریب کا ملکہ تھا،
لیکن ابھی پوری صفات کا ظہور نہ ہواتھا،
اس لیے وہ شک وشبہ اور التباس میں ڈالنے والی باتیں کرتا تھا اور اچانک وہ غائب ہوگیا۔
فوائد ومسائل:
معلوم ہوتا ہے،
ابن صیاد ہی دجال اکبر ہے،
آخری زمانہ میں جب وہ اپنی اصلیت میں ظاہر ہوگا تو پھر نہ مدینہ میں داخل ہو سکے گا اور نہ مکہ میں،
اور نہ اس کی اولاد ہوگی،
اپنے ابتدائی دور میں اس کے اندر دجل وفریب کا ملکہ تھا،
لیکن ابھی پوری صفات کا ظہور نہ ہواتھا،
اس لیے وہ شک وشبہ اور التباس میں ڈالنے والی باتیں کرتا تھا اور اچانک وہ غائب ہوگیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7348]
Sahih Muslim Hadith 7348 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري