صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب ذكر ابن صياد:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2927 ترقیم شاملہ: -- 7349
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ صَائِدٍ " وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ مَا لِي، وَلَكُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ، وَقَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: وَلَا يُولَدُ لَهُ، وَقَدْ وُلِدَ لِي، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَكَّةَ، وَقَدْ حَجَجْتُ، قَالَ: فَمَا زَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَأْخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْآنَ حَيْثُ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، قَالَ: وَقِيلَ لَهُ: أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ؟، قَالَ: فَقَالَ: لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا كَرِهْتُ ".
معتمر کے والد (سلیمان) ابونضرہ سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں، کہا: مجھ سے ابن صیاد نے ایک بات کہی تو مجھے اس کے سامنے شرمندگی محسوس ہوئی۔ (اس نے کہا:) اس بات پر میں اور لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں، مگر اے اصحاب محمد! آپ لوگوں کا میرے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ کیا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: ”دجال یہودی ہو گا۔“ اور میں مسلمان ہو چکا ہوں۔ کہا: ”وہ لاولد ہو گا۔“ جبکہ میری اولاد ہوئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اللہ نے مکہ (میں داخلہ) اس پر حرام کر دیا ہے۔“ اور میں حج کر چکا ہوں۔ (حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے) کہا: وہ (ابن صیاد) مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا جن سے امکان تھا کہ اس کی بات میرے دل میں بیٹھ جاتی، کہا: پھر وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! اس وقت میں یہ بات جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے، میں اس کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں۔ کہا: اس سے پوچھا گیا کہ کیا تمھیں یہ بات اچھی لگے گی کہ تم وہی (دجال) آدمی ہو؟ اس نے کہا: اگر مجھ کو اس کی پیش کش کی جائے تو میں اسے ناپسند نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7349]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابن صیاد نے مجھ سے ایک بات کہی جس سے مجھے شرم و حیا آگئی، اس نے کہا: اس مسئلے میں میں لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں لیکن اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو! تم میرے بارے میں ایسی باتیں کیوں کرتے ہو؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا: ”وہ یہودی ہے۔“ اور میں تو اسلام کا اظہار کر چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اس کی اولاد نہیں ہوگی۔“ اور میری اولاد ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے اس پر مکہ کا داخلہ حرام قرار دیا ہے۔“ اور میں حج کر چکا ہوں، وہ اس قسم کی باتیں کرتا رہا حتیٰ کہ قریب تھا کہ مجھ پر اس کی باتیں اثر انداز ہو جائیں (میں اس سے متاثر ہو جاؤں) چنانچہ اس نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں، اب وہ کہاں ہے اور میں اس کے باپ اور اس کی ماں کو بھی جانتا ہوں اور اس سے پوچھا گیا: کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو ہی وہ آدمی (دجال) ہو؟ تو اس نے کہا: اگر مجھے اس کی پیش کش کی جائے تو میں اسے ناپسند نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7349]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
7349
| ألم يقل رسول الله إنه يهودي وقد أسلمت قال ولا يولد له وقد ولد لي وقال إن الله قد حرم عليه مكة وقد حججت |
صحيح مسلم |
7350
| ألم يقل رسول الله هو كافر وأنا مسلم أوليس قد قال رسول الله هو عقيم لا يولد له وقد تركت ولدي بالمدينة أوليس قد قال رسول الله لا يدخل المدينة ولا مكة وقد أقبلت من المدينة وأنا أريد مكة |
جامع الترمذي |
2246
| ألم يقل رسول الله إنه كافر وأنا مسلم ألم يقل رسول الله إنه عقيم لا يولد له وقد خلفت ولدي بالمدينة ألم يقل رسول الله لا يدخل أو لا تحل له مكة والمدينة ألست من أهل المدينة وهو ذا أنطلق معك إلى مكة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7349 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7349
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
دعویٰ اسلام کے باوجود،
اس قسم کی باطل باتیں کرنا اور دجال ہونے کو ناپسند نہ کرنا،
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے،
آخری دور میں یہی دجال کا روپ دھارے گا،
ابھی یہ پردہ اخفاء میں ہے۔
فوائد ومسائل:
دعویٰ اسلام کے باوجود،
اس قسم کی باطل باتیں کرنا اور دجال ہونے کو ناپسند نہ کرنا،
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے،
آخری دور میں یہی دجال کا روپ دھارے گا،
ابھی یہ پردہ اخفاء میں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7349]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2246
ابن صائد (ابن صیاد) کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حج یا عمرہ میں ابن صائد (ابن صیاد) میرے ساتھ تھا، لوگ آگے چلے گئے اور ہم دونوں پیچھے رہ گئے، جب میں اس کے ساتھ اکیلے رہ گیا تو لوگ اس کے بارے میں جو کہتے تھے اس کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے اور اس سے مجھے خوف محسوس ہونے لگا، چنانچہ جب میں سواری سے اترا تو اس سے کہا: اس درخت کے پاس اپنا سامان رکھ دو، پھر اس نے کچھ بکریوں کو دیکھا تو پیالہ لیا اور جا کر دودھ نکال لایا، پھر میرے پاس دودھ لے آیا اور مجھ سے کہا: ابوسعید! پیو، لیکن میں نے اس کے ہاتھ کا کچھ بھی پینا پسند نہیں کیا، اس وجہ سے جو لوگ اس کے بارے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2246]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حج یا عمرہ میں ابن صائد (ابن صیاد) میرے ساتھ تھا، لوگ آگے چلے گئے اور ہم دونوں پیچھے رہ گئے، جب میں اس کے ساتھ اکیلے رہ گیا تو لوگ اس کے بارے میں جو کہتے تھے اس کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے اور اس سے مجھے خوف محسوس ہونے لگا، چنانچہ جب میں سواری سے اترا تو اس سے کہا: اس درخت کے پاس اپنا سامان رکھ دو، پھر اس نے کچھ بکریوں کو دیکھا تو پیالہ لیا اور جا کر دودھ نکال لایا، پھر میرے پاس دودھ لے آیا اور مجھ سے کہا: ابوسعید! پیو، لیکن میں نے اس کے ہاتھ کا کچھ بھی پینا پسند نہیں کیا، اس وجہ سے جو لوگ اس کے بارے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2246]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جو دلائل تم نے پیش کئے ان کی بنیاد پر تمہارے متعلق میں نے جو حسن ظن قائم کیا تھا تمہاری اس آخری بات کو سن کر میرا حسن ظن جاتا رہا اور مجھے تجھ سے بد گمانی ہوگئی (شاید یہ اس کے ذہنی مریض ہونے کی وجہ سے تھا،
یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کو اس کی اول فول باتوں کی وجہ سے دجال تک سمجھنے لگے)
وضاحت:
1؎:
یعنی جو دلائل تم نے پیش کئے ان کی بنیاد پر تمہارے متعلق میں نے جو حسن ظن قائم کیا تھا تمہاری اس آخری بات کو سن کر میرا حسن ظن جاتا رہا اور مجھے تجھ سے بد گمانی ہوگئی (شاید یہ اس کے ذہنی مریض ہونے کی وجہ سے تھا،
یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کو اس کی اول فول باتوں کی وجہ سے دجال تک سمجھنے لگے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2246]
Sahih Muslim Hadith 7349 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري