صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب ذكر ابن صياد:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2930 ترقیم شاملہ: -- 7357
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، حَتَّى وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ غُلَامًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ إِلَى مُنْتَهَى حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، وَفِي الْحَدِيثِ عَنْ يَعْقُوبَ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ يَعْنِي فِي قَوْلِهِ: لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ، قَالَ: لَوْ تَرَكَتْهُ أُمُّهُ بَيَّنَ أَمْرَهُ،
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی جماعت کے ساتھ جس میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، تشریف لے گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کو دیکھا۔ وہ اس وقت بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے قریب ایک لڑکا تھا، وہ بنو معاویہ کے مکانوں کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اور عمر بن ثابت کی حدیث کے اختتام تک یونس کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ اور یعقوب سے روایت کردہ حدیث میں کہا: ابی (ابن کعب رضی اللہ عنہ) نے آپ صلی اللہ علی۔ہ وسلم کے فرمان: ”اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو واضح کر دیتا۔“ کے بارے میں کہا، اگر اس کی ماں اسے چھوڑ دیتی تو اپنا معاملہ وہ واضح کر دیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7357]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ایک گروہ کے ساتھ چلے، ان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھےحتی کہ ابن صیاد کو پایا وہ ایک قریب البلوغت لڑکا ہے اور بچوں کے ساتھ بنو معاویہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے اور آگے مذکورہ بالا حدیث عمر بن ثابت کی حدیث کے خاتمہ تک بیان کی اور اس حدیث میں ہے کہ حضرت ابی نے "لوتَرَكتهُ بين" کی وضاحت کی، اگر اس کی ماں اس کو چھوڑدیتی (اس کو آگاہ نہ کرتی) وہ اپنا معاملہ واضح کر دیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7357]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2930
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7357 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7357
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بنو مغالہ اور بنو معاویہ کے قلعے ایک دوسرے کے سامنے ہیں،
اس لیے مشہور یہی ہے کہ وہ بنو مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہے تھے،
شاید بھاگ کر ایک دوسرے کی طرف جاتے ہوں،
اس لیے کبھی ایک کانام لے دیا،
کبھی دوسرے کا۔
فوائد ومسائل:
بنو مغالہ اور بنو معاویہ کے قلعے ایک دوسرے کے سامنے ہیں،
اس لیے مشہور یہی ہے کہ وہ بنو مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہے تھے،
شاید بھاگ کر ایک دوسرے کی طرف جاتے ہوں،
اس لیے کبھی ایک کانام لے دیا،
کبھی دوسرے کا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7357]
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي