🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب النَّهْيِ عَنْ هَتْكِ الإِنْسَانِ سِتْرَ نَفْسِهِ:
باب: انسان کو اپنا پردہ کھولنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2990 ترقیم شاملہ: -- 7485
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ وَعَبْدُ بْنُ حميدٍ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافَاةٌ إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْإِجْهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الْعَبْدُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحُ قَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ، فَيَقُولُ يَا فُلَانُ: قَدْ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، فَيَبِيتُ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ "، قَالَ زُهَيْرٌ: وَإِنَّ مِنَ الْهِجَارِ.
سالم نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: میری تمام امت کو (گناہوں پر) معافی ملے گی، سوائے ان لوگوں کے جو (اپنے گناہوں کا) اعلان کرنے والے ہیں۔ اعلان میں یہ ہے کہ بندہ رات کو ایک کام کرے، پھر صبح ہو تو اللہ نے اس کا پردہ رکھا ہوا ہو اور وہ خود کہے: اے فلاں! میں نے پچھلی رات ایسا ایسا کام کیا، حالانکہ اس نے رات گزاردی اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالے رکھا اور وہ صبح کرتا ہے تو وہ اپنے رب کا ڈالا ہوا پردہ خود اتار دیتا ہے۔ زہیر نے (اجہار یعنی اعلان کے بجائے) وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ (یہ بڑی بے حیائی کی بات ہے) کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7485]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: میری تمام امت کو معافی ملے گی، سوائے ان لوگوں کے جو (اپنے گناہوں کا) اعلان کرنے والے ہیں۔ اعلان میں یہ ہے کہ بندہ رات کو ایک کام کرے، پھر صبح ہو تو اللہ نے اس کا پردہ رکھا ہوا ہو اور وہ خود کہے: اے فلاں! میں نے پچھلی رات ایسا ایسا کام کیا، حالانکہ اس نے رات گزار دی، اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالے رکھا اور وہ صبح کرتا ہے تو وہ اپنے رب کا ڈالا ہوا پردہ خود اتار دیتا ہے۔ زہیر نے (اِجْہَار یعنی اعلان کے بجائے) «وَإِنَّ مِنَ الْمُجَانَةِ» (یہ بڑی بے حیائی کی بات ہے) کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2990
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥محمد بن عبد الله الزهري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الزهري ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← محمد بن عبد الله الزهري
ثقة
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله
Newمحمد بن حاتم السمين ← عبد بن حميد الكشي
صدوق ربما وهم وكان فاضلا
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← محمد بن حاتم السمين
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6069
كل أمتي معافى إلا المجاهرين وإن من المجاهرة أن يعمل الرجل بالليل عملا ثم يصبح وقد ستره الله عليه فيقول يا فلان عملت البارحة كذا وكذا وقد بات يستره ربه ويصبح يكشف ستر الله عنه
صحيح مسلم
7485
كل أمتي معافاة إلا المجاهرين وإن من الإجهار أن يعمل العبد بالليل عملا ثم يصبح قد ستره ربه فيقول يا فلان قد عملت البارحة كذا وكذا وقد بات يستره ربه فيبيت يستره ربه ويصبح يكشف ستر الله عنه
المعجم الصغير للطبراني
488
كل أمتي معافى إلا المجاهرين ، قيل : يا رسول الله ، ومن المجاهرون ؟ ، قال : الذى يعمل العمل بالليل فيستره ربه ، ثم يصبح ، فيقول : يا فلان عملت البارحة كذا وكذا ، فيكشف ستر الله عنه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7485 کے فوائد و مسائل
صحيح مسلم مختصر مع شرح نووي: تحت الحديث صحيح مسلم 7485
تشریح:
پوشیدہ گناہوں کو لوگوں پر ظاہر کرنا ایسا سخت گناہ کبیرہ ہے کہ معاف نہ ہو گا اس واسطے کہ اس میں گناہ پر جرات اور بےپروا ہی ثابت ہوتی ہے اور صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ظاہر کرنے والا اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور یہ جو بعض نادان کہتے ہیں کہ صاحب جس کا اللہ سے پردہ نہیں اس کا آدمی سے پردہ کرنا کیا ضروری ہے؟ سو غلط سمجھے ہیں کہ اگر وہ شرماتا اور ظاہر نہ کرتا البتہ اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرتا اور جب کہ اس نے بےحیا بن کر خود اپنا پردہ فاش کیا تو مغفرت اور پردہ پوشی کے لائق نہ رہا اور حدیث میں آیا ہے کہ پوشیدہ گناہ کی پوشیدہ توبہ کرے اور ظاہر گناہ کی ظاہر ہو کر توبہ کرے تاکہ نیک لوگ خوش ہو کر اس کی توبہ کے گواہ ہوں یا اور گناہ گار اس کو دیکھ کر توبہ پر مستعد ہوں۔ [تحفته الاخيار]
[مختصر شرح نووی، حدیث/صفحہ نمبر: 7485]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7485
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتاہےجو انسان چھپ کر اور پوشیدہ طور پر گناہ کرتا ہے اس کے اندر شرم و حیاء باقی ہے اور وہ اس کام کو برا ہی سمجھتا ہے،
اس لیے وہ اس کام سے باز آسکتا ہے،
توبہ کرسکتا ہے لیکن جو انسان کسی گناہ کا اعلانیہ طور پر ارتکاب کرتاہے،
اس کا معنی یہ ہے،
وہ شرم و حیا سے عاری ہے اور گناہ کو گناہ ہی نہیں سمجھتا،
بلکہ ڈھٹائی سے کام لےکر اس کو یوں کرتا ہے کہ یہ بھی اچھا کام ہے،
یا دوسروں کی غیرت کو للکارتا ہے،
یا ان کے جذبات کا خون کرتا ہے،
اس لیے اس کام سے باز آنا یا توبہ کرناممکن نہیں رہتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7485]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6069
6069. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: میری تمام امت کو معاف کر دیا جائے گا مگر جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔ علانیہ گناہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہوتا ہے لیکن صبح ہوتے ہی وہ کہنے لگتا ہے: اے فلاں! میں نے رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپا رکھا تھا جب صبح ہوئی تو وہ خود پر دیےگئے اللہ کے پردے کھو لنے لگا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6069]
حدیث حاشیہ:
(1)
اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت "سِتير'' بھی ہے کہ وہ پردہ پوشی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ دنیا میں بندے کے بہت سے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی وہ اپنے بندوں کو ذلیل ورسوا نہیں کرے گا لیکن کچھ آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ خود اپنی پردہ دری کرتے ہیں، وہ چوری پھر سینہ زوری کرتے ہوئے اپنے گناہوں کا چرچا کرتے ہیں کہ ہم نے آج رات فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔
یہ تو بے حیائی اور بے باکی ہے جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا۔
(2)
اللہ تعالیٰ بندے کے گناہ پر پردہ اسی صورت میں ڈالتا ہے کہ بندہ اپنے گناہ پر خود بھی پردہ ڈالنے والا ہو۔
اس کے برعکس جو انسان اپنے گناہوں کا چرچا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ بھی اس کے گناہوں پر پردہ نہیں ڈالے گا۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اور لوگوں سے حیا کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی تشہیر نہ کرے تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے پناہ میں رکھے اور اسے ذلیل وخوار نہ کرے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6069]

Sahih Muslim Hadith 7485 in Urdu