صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب استحباب استعمال المغتسلة من الحيض فرصة من مسك في موضع الدم:
باب: حائضہ کا غسل کرنے کے بعد مشک لگا روئی کا ٹکڑا خون کی جگہ میں استعمال کرنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 332 ترقیم شاملہ: -- 750
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ أَسْمَاءَ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ: تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا، فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا، حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَطَهَّرُ بِهَا، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِينَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ، تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: تَأْخُذُ مَاءً، فَتَطَهَّرُ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ، نِسَاءُ الأَنْصَارِ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ "،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابراہیم بن مہاجر سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے صفیہ سے سنا وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی تھیں کہ اسماء (بنت شکیل انصاریہ) رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں سوال کیا؟ تو آپ نے فرمایا: ”ایک عورت اپنا پانی اور بیری کے پتے لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے، پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح ملے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالے، پھر کستوری سے معطر کپڑے یا روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے۔“ تو اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اس سے پاکیزگی کیسے حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (جیسے وہ اس بات کو چھپا رہی ہوں) ”خون کے نشان پر لگا کر۔“ اور اس نے آپ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”(غسل کرنے والی) پانی لے کر اس سے خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی ڈال کر اسے ملے حتیٰ کہ سر کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے آپ پر پانی ڈالے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں، دین کو اچھی طرح سمجھنے سے شرم انہیں نہیں روکتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 750]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک اپنا پانی اور بیری کے پتے لے کر اچھی طرح طہارت کرے (خون کو اچھی طرح صاف کرے) پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح ملے، یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالے، پھر کستوری سے معطر کپڑے کا ٹکڑا لے کر، اس سے صفائی کرے (خون کی جگہ پر خوشبو لگائے)۔“ تو اسماء رضی اللہ عنہا نے پوچھا، اس سے پاکیزگی کیسے حاصل کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کر۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے (آہستگی) سے کہا: خون کے نشان پر لگا کر، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی لے کر اس سے اچھی طرح مکمل طور پر وضو کرے، پھر سر پر پانی ڈال کر اسے ملے، حتیٰ کہ سر کے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اپنے جسم پر پانی ڈالے۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انصار کی عورتیں کس قدر اچھی ہیں کہ شرم و حیا انہیں دین کی سوجھ بوجھ حاصل کرنے سے نہیں روکتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 750]
ترقیم فوادعبدالباقی: 332
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7357
| تأخذين فرصة ممسكة فتوضئين بها قالت كيف أتوضأ بها يا رسول الله قال النبي توضئي قالت كيف أتوضأ بها يا رسول الله قال النبي توضئين بها قالت عائشة فعرفت الذي يريد رسول الله فجذبتها إلي فعلمتها |
صحيح البخاري |
315
| خذي فرصة ممسكة فتوضئي ثلاثا ثم إن النبي استحيا فأعرض بوجهه أو قال توضئي بها فأخذتها فجذبتها فأخبرتها بما يريد النبي |
صحيح البخاري |
314
| خذي فرصة من مسك فتطهري بها |
صحيح مسلم |
748
| تطهري بها سبحان الله واستتر |
صحيح مسلم |
750
| تأخذ إحداكن ماءها وسدرتها فتطهر فتحسن الطهور ثم تصب على رأسها فتدلكه دلكا شديدا حتى تبلغ شئون رأسها ثم تصب عليها الماء ثم تأخذ فرصة ممسكة فتطهر بها فقالت أسماء وكيف تطهر بها فقال سبحان الله تطهرين بها فقالت عائشة كأنها تخفي ذلك تتبعين أثر الدم وسألته |
سنن أبي داود |
314
| تأخذ سدرها وماءها فتوضأ ثم تغسل رأسها وتدلكه حتى يبلغ الماء أصول شعرها ثم تفيض على جسدها ثم تأخذ فرصتها فتطهر بها |
سنن النسائى الصغرى |
427
| خذي فرصة ممسكة فتوضئي بها قالت كيف أتوضأ بها قال توضئي بها قالت كيف أتوضأ بها قالت ثم إن رسول الله سبح وأعرض عنها ففطنت عائشة لما يريد رسول الله قالت فأخذتها وجبذتها إلي فأخبرتها بما يريد رسول الله |
سنن النسائى الصغرى |
252
| خذي فرصة من مسك فتطهري بها قالت وكيف أتطهر بها فاستتر كذا ثم قال سبحان الله تطهري بها قالت عائشة ا فجذبت المرأة وقلت تتبعين بها أثر الدم |
سنن ابن ماجه |
642
| تأخذ إحداكن ماءها وسدرها فتطهر فتحسن الطهور أو تبلغ في الطهور ثم تصب على رأسها فتدلكه دلكا شديدا حتى تبلغ شؤون رأسها ثم تصب عليها الماء ثم تأخذ فرصة ممسكة فتطهر بها قالت أسماء كيف أتطهر بها قال سبحان الله تطهري بها قالت عائشة كأنها تخفي ذلك تتبعي بها |
مسندالحميدي |
167
| خذي فرصة من مسك فتطهري بها |
صفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق