صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
23. باب الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ:
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو کا لازم ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 352 ترقیم شاملہ: -- 788
(حديث مرفوع) قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ أَخْبَرَهُ، " أَنَّهُ وَجَدَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَتَوَضَّأُ عَلَى الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ".
عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد میں وضو کرتے ہوئے پایا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو پنیر کے ٹکڑوں کی بنا پر وضو کر رہا ہوں جنہیں میں نے کھایا ہے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے: ”ایسی چیز سے وضو کرو جسے آگ نے چھوا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 788]
عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ رحمہ اللہ روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد میں وضو کرتے ہوئے پایا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں تو پنیر کے ٹکڑے کھانے سے وضو کر رہا ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”آگ پر پکی چیز سے وضو کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 788]
ترقیم فوادعبدالباقی: 352
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥إبراهيم بن عبد الله الكناني إبراهيم بن عبد الله الكناني ← أبو هريرة الدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عمر بن عبد العزيز الأموي، أبو حفص عمر بن عبد العزيز الأموي ← إبراهيم بن عبد الله الكناني | ثقة مأمون | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عمر بن عبد العزيز الأموي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
171
| توضئوا مما مست النار |
سنن النسائى الصغرى |
172
| توضئوا مما مست النار |
سنن النسائى الصغرى |
173
| الوضوء مما مست النار |
سنن النسائى الصغرى |
174
| توضئوا مما مست النار |
سنن النسائى الصغرى |
175
| توضئوا مما مست النار |
صحيح مسلم |
788
| توضئوا مما مست النار |
جامع الترمذي |
79
| الوضوء مما مست النار ولو من ثور أقط |
سنن ابن ماجه |
485
| توضئوا مما غيرت النار |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 788 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 788
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
أَثْوَار:
ثَوْرٌ کی جمع،
ٹکڑے۔
(2)
أَقِطٍ:
پنیر۔
مفردات الحدیث:
(1)
أَثْوَار:
ثَوْرٌ کی جمع،
ٹکڑے۔
(2)
أَقِطٍ:
پنیر۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 788]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث485
آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کرو“، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا ہم گرم پانی استعمال کرنے سے بھی وضو کریں؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنو تو اس پر باتیں مت بناؤ“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 485]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کرو“، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا ہم گرم پانی استعمال کرنے سے بھی وضو کریں؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنو تو اس پر باتیں مت بناؤ“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 485]
اردو حاشہ:
(1)
جس چیز میں آگ تبدیلی کردے اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے آگ پر پکا کر یا بھون کر تیار کیا گیا ہو۔
(2)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا موقف تھا کہ یہ حکم وجوبی نہیں ہے کیونکہ انھوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کھا کر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
اس لیے انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کے لیے سوال کیا۔
لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے غالباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل نہیں دیکھا اس لیے وہ اپنے موقف پر قائم رہے یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس اجازت کا علم تو ہو لیکن وہ چاہتے ہوں کہ لوگ افضلیت کو اختیار کریں۔
(3)
جب حدیث میں کسی حکم کو عام رکھا گیا ہو تو اسے عام ہی سمجھنا چاہیے حتی کہ دوسرے دلائل سے معلوم ہوجائے کہ فلاں صورت اس عموم میں شامل نہیں۔
(4)
آئندہ باب کی احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکم وجوبی نہیں یعنی آگ کی پکی ہوئی چیز کھا پی کروضو کرنا لازم نہیں بہتر اور افضل ہے۔
(1)
جس چیز میں آگ تبدیلی کردے اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے آگ پر پکا کر یا بھون کر تیار کیا گیا ہو۔
(2)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا موقف تھا کہ یہ حکم وجوبی نہیں ہے کیونکہ انھوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کھا کر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
اس لیے انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کے لیے سوال کیا۔
لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے غالباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل نہیں دیکھا اس لیے وہ اپنے موقف پر قائم رہے یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس اجازت کا علم تو ہو لیکن وہ چاہتے ہوں کہ لوگ افضلیت کو اختیار کریں۔
(3)
جب حدیث میں کسی حکم کو عام رکھا گیا ہو تو اسے عام ہی سمجھنا چاہیے حتی کہ دوسرے دلائل سے معلوم ہوجائے کہ فلاں صورت اس عموم میں شامل نہیں۔
(4)
آئندہ باب کی احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکم وجوبی نہیں یعنی آگ کی پکی ہوئی چیز کھا پی کروضو کرنا لازم نہیں بہتر اور افضل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 485]
Sahih Muslim Hadith 788 in Urdu
إبراهيم بن عبد الله الكناني ← أبو هريرة الدوسي