صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
25. باب الوضوء من لحوم الإبل:
باب: اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کاحکم۔
ترقیم عبدالباقی: 360 ترقیم شاملہ: -- 803
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَأَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ كلهم، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
سماک، عثمان بن عبداللہ بن موہب اور اشعث بن ابی شعثاء سب نے جعفر بن ابی ثور سے، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابوعوانہ سے ابوکامل نے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 803]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 803]
ترقیم فوادعبدالباقی: 360
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 803 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 803
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مَرَابِض:
مربض کی جمع ہے،
بکریوں کا باڑہ۔
(2)
مَبَارِك:
مبرك کی جمع ہے،
اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ،
اونٹوں کا باڑہ۔
فوائد ومسائل:
(1)
جمہور صحابہ و تابعین اور آئمہ ثلاثہ کے نزدیک،
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ،
اسحاق بن راہوایہ رحمۃ اللہ علیہ،
ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ،
اور محدثین کے نزدیک اونٹ کے گوشت سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور یہی حق ہے اس کے گوشت کی تاثیر،
دوسرے گوشتوں سے جدا ہے۔
(2)
اونٹ ایک زبردست طاقتور اور شریر حیوان ہے،
جس کے لات مارنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے،
اس لیے کسی ایسی صورت میں جبکہ اس سے خطرہ ہو،
اس کے قریب نماز نہیں پڑھنی چاہے،
اس سے فاصلہ پر جہاں خطرہ نہ ہو،
نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے،
جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
مَرَابِض:
مربض کی جمع ہے،
بکریوں کا باڑہ۔
(2)
مَبَارِك:
مبرك کی جمع ہے،
اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ،
اونٹوں کا باڑہ۔
فوائد ومسائل:
(1)
جمہور صحابہ و تابعین اور آئمہ ثلاثہ کے نزدیک،
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ،
اسحاق بن راہوایہ رحمۃ اللہ علیہ،
ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ،
اور محدثین کے نزدیک اونٹ کے گوشت سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور یہی حق ہے اس کے گوشت کی تاثیر،
دوسرے گوشتوں سے جدا ہے۔
(2)
اونٹ ایک زبردست طاقتور اور شریر حیوان ہے،
جس کے لات مارنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے،
اس لیے کسی ایسی صورت میں جبکہ اس سے خطرہ ہو،
اس کے قریب نماز نہیں پڑھنی چاہے،
اس سے فاصلہ پر جہاں خطرہ نہ ہو،
نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے،
جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 803]
جعفر بن أبي ثور السوائي ← جابر بن سمرة العامري