صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
29. باب الدليل على ان المسلم لا ينجس:
باب: مسلمان کے نجس نہ ہونے کی دلیل۔
ترقیم عبدالباقی: 371 ترقیم شاملہ: -- 824
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ جُنُبٌ، فَانْسَلَّ، فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، فَتَفَقَّدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَهُ، قَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنابت کی حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستے پر انہیں ملے تو وہ کھسک گئے اور جا کر غسل کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تلاش کروایا۔ جب وہ آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا: ”ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! جب آپ مجھے ملے تو میں جنابت کی حالت میں تھا، میں نے غسل کیے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا پسند نہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! مومن ناپاک (نجس) نہیں ہوتا۔“ (یعنی اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ اسے کوئی چھو جائے، قریب بیٹھے یا اس سے ہاتھ ملائے تو وہ بھی ناپاک ہو جائے۔) [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 824]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں جنابت کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستے میں ملے، وہ کھسک کر چلے گئے اور غسل کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تلاش کیا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہ! تم کہاں تھے؟“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب آپ سے میری ملاقات ہوئی تو میں جنابت کی حالت میں تھا، اس لیے غسل کیے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھنا میں نے ناپسند کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ» ”سبحان اللہ! مومن نجس پلید نہیں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 824]
ترقیم فوادعبدالباقی: 371
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
283
| المسلم لا ينجس |
صحيح البخاري |
285
| المؤمن لا ينجس |
صحيح مسلم |
824
| سبحان الله إن المؤمن لا ينجس |
جامع الترمذي |
121
| المسلم لا ينجس |
سنن أبي داود |
231
| سبحان الله إن المسلم لا ينجس |
سنن النسائى الصغرى |
270
| سبحان الله إن المؤمن لا ينجس |
سنن ابن ماجه |
534
| المؤمن لا ينجس |
Sahih Muslim Hadith 824 in Urdu
نفيع بن رافع المدني ← أبو هريرة الدوسي