🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب الدليل على ان المسلم لا ينجس:
باب: مسلمان کے نجس نہ ہونے کی دلیل۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 372 ترقیم شاملہ: -- 825
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ، فَحَادَ عَنْهُ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: كُنْتُ جُنُبًا، قَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ ".
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ملے جبکہ وہ جنبی تھے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہٹ گئے اور غسل کیا، پھر آ کر عرض کی کہ میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 825]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ملے، جبکہ وہ جنبی تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہو گیا اور غسل کیا، پھر آ کر عرض کیا میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان پلید نہیں ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 825]
ترقیم فوادعبدالباقی: 372
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي
مخضرم
👤←👥واصل بن حيان الأحدب
Newواصل بن حيان الأحدب ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← واصل بن حيان الأحدب
ثقة ثبت
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
230
المسلم لا ينجس
صحيح مسلم
825
المسلم لا ينجس
سنن النسائى الصغرى
269
المسلم لا ينجس
سنن النسائى الصغرى
268
المسلم لا ينجس
سنن ابن ماجه
535
المسلم لا ينجس
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 825 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 825
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جنابت ایک حکمی نجاست ہے حقیقی نجاست نہیں ہے اس لیے جنابت کی صورت میں انسان کا جسم پلید نہیں ہوتا۔
کافر کی نجاست بھی اعتقادی اور باطنی نجاست ہے ظاہری طور پر وہ نجس نہیں ہوتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 825]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 268
جنبی کو چھونے اور اس کے ساتھ بیٹھنے کا بیان۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس (کے جسم) پر ہاتھ پھیرتے، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے، ایک دن صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر میں کترا گیا، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 268]
268۔ اردو حاشیہ:
➊ استاذ یا بزرگ کو چاہیے، وہ اپنے چھوٹوں اور شاگردوں کا خیال رکھے، ان کے حالات سے ضروری حد تک باخبر رہے تاکہ حسب ضرورت ان کی مدد اور رہنمائی کر سکے۔ ان سے مصافحہ کرے، ان سے میل جول رکھے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں دعا بھی دے۔ خصوصاً خادم دعا کا زیادہ مستحق ہے۔ یہ خدمت کا بدلہ بھی بن جائے گا۔
➋ جنابت، حیض اور بول و براز سے انسان نماز وغیرہ کے قابل نہیں رہتا۔ یہ معنوی پلیدی ہے۔ ظاہراً انسان، خصوصاً مسلمان پاک رہتا ہے۔ مندرجہ بالا حالات میں اس سے ملنا جلنا، اس کے ساتھ کھانا پینا، اس کا ہر قسم کے کام کاج کرنا جائز ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کا جوٹھا کھایا پیا جا سکتا ہے۔ وہ کسی چیز میں ہاتھ ڈال دے (مثلاً پانی وغیرہ میں) اور ہاتھ کو ظاہری نجاست بھی نہ لگی ہو تو وہ چیز پاک رہے گی۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 268]