صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الإمساك عن الإغارة على قوم في دار الكفر إذا سمع فيهم الاذان:
باب: دارالکفر میں کسی قوم کے علاقہ میں جب اذان کی آواز سنی جائے تو اس قوم پر حملہ کرنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 382 ترقیم شاملہ: -- 847
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، وَكَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا، أَمْسَكَ، وَإِلَّا أَغَارَ، فَسَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى الْفِطْرَةِ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ فَنَظَرُوا، فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزًى ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دشمن پر) طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے، پھر اگر اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے، (ایسا ہوا کہ) آپ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا: اللہ أکبر اللہ أکبر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فطرت (اسلام) پر ہے۔“ پھر اس نے کہا: أشہد أن لا إلہ إلا اللہ، أشہد أن لا إلہ إلا اللہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آگ سے نکل گیا۔“ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 847]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دشمن پر) طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان سن لیتے تو حملہ کرنے سے رک جاتے، ورنہ حملہ کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فطرتِ اسلام پر ہے۔“ پھر اس نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آگ سے آزاد ہو گیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس شخص کو دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 847]
ترقیم فوادعبدالباقی: 382
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← حماد بن سلمة البصري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة زهير بن حرب الحرشي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
847
| يغير إذا طلع الفجر كان يستمع الأذان فإن سمع أذانا أمسك وإلا أغار سمع رجلا يقول الله أكبر الله أكبر فقال رسول الله على الفطرة ثم قال أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله فقال رسول الله خرجت من النار فن |
جامع الترمذي |
1618
| خرجت من النار |
سنن أبي داود |
2634
| يغير عند صلاة الصبح كان يتسمع فإذا سمع أذانا أمسك وإلا أغار |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 847 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 847
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کسی گاؤں یا بستی سے اذان کی آواز آنا اس کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے،
اس لیے اس بستی پر حملہ نہیں کیا جائے گا چرواہے کا اللہ کی واحدنیت کی گواہی دینا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے اس گواہی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آگ سے نجات پانے کی خبر دی اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
کسی گاؤں یا بستی سے اذان کی آواز آنا اس کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے،
اس لیے اس بستی پر حملہ نہیں کیا جائے گا چرواہے کا اللہ کی واحدنیت کی گواہی دینا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے اس گواہی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آگ سے نجات پانے کی خبر دی اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 847]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2634
لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور غور سے (اذان) سننے کی کوشش کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو رک جاتے، ورنہ حملہ کر دیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2634]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور غور سے (اذان) سننے کی کوشش کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو رک جاتے، ورنہ حملہ کر دیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2634]
فوائد ومسائل:
اذان کا سنائی دینا اس بات کی علامت ہے۔
کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں۔
اس لئے ان پر حملہ نہیں کیا جاتا تھا۔
اذان کی آواز کا نہ آنا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان نہیں ہیں۔
لہذا ان پرحملہ کر دیا جاتا تھا۔
اذان کا سنائی دینا اس بات کی علامت ہے۔
کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں۔
اس لئے ان پر حملہ نہیں کیا جاتا تھا۔
اذان کی آواز کا نہ آنا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان نہیں ہیں۔
لہذا ان پرحملہ کر دیا جاتا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2634]
Sahih Muslim Hadith 847 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري