🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2.09. (الوسوسة سبب للشكر أيضا)
وسوسہ شکر کا ذریعہ بھی

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 73
‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالشَّيْءِ لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ. قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: میرے دل میں کچھ ایسا وسوسہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے بیان کرنے سے کوئلہ بن جانا مجھے زیادہ پسند ہے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے کو وسوسہ میں بدل دیا۔  اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (5112) [والنسائي في الکبري (10503) و صححه ابن حبان (الموارد: 46) ] »
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
5112
الله أكبر الله أكبر الله أكبر الحمد لله الذي رد كيده إلى الوسوسة
المعجم الصغير للطبراني
65
أجد في نفسي الشيء أن أكون حممة أحب إلي من أن أتكلم به فقال ذاك صريح الإيمان
مشكوة المصابيح
73
الحمد لله الذي رد امره إلى الوسوسة
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 73 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 73
تخریج:
[سنن ابي داود 5112]

تحقیق الحدیث:
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
اسے ابوداود کے علاوہ أحمد بن حنبل [1؍235 ح 2097] عبد بن حمید [المنتخب: 701] نسائی [الكبريٰ: 10504، عمل اليوم والليلة:
668]
طحاوی [معاني الآثار 2؍252] ابن حبان [الاحسان: 147] بیہقی [شعب الايمان: 341، 342] اور ابن مندہ [الايمان: 345] نے بھی روایت کیا ہے۔

فقہ الحدیث:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحیح العقیدہ اہل حق کے دلوں میں بھی شیطان مسلسل وسوسے ڈالنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ایمان کے اعلیٰ ترین درجوں پر فائز تھے۔ وہ شیطانی وسوسوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔
«حممة» جلے ہوئے کوئلے کو کہتے ہیں۔
➍ اللہ کے فضل وکرم پر الحمدللہ کہنا چاہئے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 73]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5112
وسوسہ دور کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے دل میں ایسا وسوسہ پیدا ہوتا ہے، کہ اس کو بیان کرنے سے راکھ ہو جانا یا جل کر کوئلہ ہو جانا بہتر معلوم ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے شیطان کے مکر کو وسوسہ بنا دیا (اور وسوسہ مومن کو نقصان نہیں پہنچاتا)۔ ابن قدامہ نے اپنی روایت میں «رد كيده» کی جگہ «رد أمره» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5112]
فوائد ومسائل:
دل میں آنے والے خیالات عزم سے پہلے پہلے ھواجس اور خواطر یعنی وساوس کی حد تک ہوں تو ان پر کوئی مواخذہ نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5112]