🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
119. باب في رد الوسوسة
باب: وسوسہ دور کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5112
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَابْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَنَا يَجِدُ فِي نَفْسِهِ يُعَرِّضُ بِالشَّيْءِ لَأَنْ يَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ , فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ" , قال ابْنُ قُدَامَةَ: رَدَّ أَمْرَهُ مَكَانَ رَدَّ كَيْدَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے دل میں ایسا وسوسہ پیدا ہوتا ہے، کہ اس کو بیان کرنے سے راکھ ہو جانا یا جل کر کوئلہ ہو جانا بہتر معلوم ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے شیطان کے مکر کو وسوسہ بنا دیا (اور وسوسہ مومن کو نقصان نہیں پہنچاتا)۔ ابن قدامہ نے اپنی روایت میں «رد كيده» کی جگہ «رد أمره» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5788)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 340) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (73)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبد الله بن شداد الليثي، أبو الوليد
Newعبد الله بن شداد الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥ذر بن عبد الله المرهبي، أبو عمرو، أبو عمر
Newذر بن عبد الله المرهبي ← عبد الله بن شداد الليثي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← ذر بن عبد الله المرهبي
ثقة ثبت
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥محمد بن قدامة المصيصي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن قدامة المصيصي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← محمد بن قدامة المصيصي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
5112
الله أكبر الله أكبر الله أكبر الحمد لله الذي رد كيده إلى الوسوسة
المعجم الصغير للطبراني
65
أجد في نفسي الشيء أن أكون حممة أحب إلي من أن أتكلم به فقال ذاك صريح الإيمان
مشكوة المصابيح
73
الحمد لله الذي رد امره إلى الوسوسة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5112 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5112
فوائد ومسائل:
دل میں آنے والے خیالات عزم سے پہلے پہلے ھواجس اور خواطر یعنی وساوس کی حد تک ہوں تو ان پر کوئی مواخذہ نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5112]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 73
وسوسہ شکر کا ذریعہ بھی
«. . . ‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالشَّيْءِ لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ. قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد . . .»
. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مقدسہ میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں اپنے دل میں ایسا اور ویسا وسوسہ پاتا ہوں کہ میں کوئلہ ہو جانا زیادہ اچھا سمجھتا ہوں، اس سے کہ اس کو زبان سے نکالوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی حمد اور شکر ہے جس نے اس بات کو وسوسہ کی طرف منتقل کر دیا یعنی دل میں وسوسہ ہی رکھا (اس کے بولنے اور عمل کرنے کا موقع ہی نہیں دیا کہ جس پر مواخذہ ہوتا)۔ اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 73]
تخریج:
[سنن ابي داود 5112]

تحقیق الحدیث:
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
اسے ابوداود کے علاوہ أحمد بن حنبل [1؍235 ح 2097] عبد بن حمید [المنتخب: 701] نسائی [الكبريٰ: 10504، عمل اليوم والليلة:
668]
طحاوی [معاني الآثار 2؍252] ابن حبان [الاحسان: 147] بیہقی [شعب الايمان: 341، 342] اور ابن مندہ [الايمان: 345] نے بھی روایت کیا ہے۔

فقہ الحدیث:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحیح العقیدہ اہل حق کے دلوں میں بھی شیطان مسلسل وسوسے ڈالنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ایمان کے اعلیٰ ترین درجوں پر فائز تھے۔ وہ شیطانی وسوسوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔
«حممة» جلے ہوئے کوئلے کو کہتے ہیں۔
➍ اللہ کے فضل وکرم پر الحمدللہ کہنا چاہئے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 73]