مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 10193
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَمَا مَنَعَنِي مِنَ الدُّخُولِ عَلَيْكَ إِلَّا كَلْبٌ كَانَ فِي الْبَيْتِ، وَتِمْثَالُ صُورَةٍ فِي سِتْرٍ كَانَ عَلَى الْبَابِ، قَالَ: فَنَظَرُوا، فَإِذَا جَرْوٌ لِلْحَسَنِ أَوْ الْحُسَيْنِ كَانَ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِالْكَلْبِ فَأُخْرِجَ، وَأَنْ يُقْطَعَ رَأْسُ الصُّورَةِ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الشَّجَرَةِ، وَيُجْعَلَ السِّتْرُ مُنْتَبَذَتَيْنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی۔ دراصل گھر میں ایک پردہ تھا جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی تھی تلاش کرنے پر پتہ چلا کہ ایک کتے کا پلہ تھا جو حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کی چارپائی کے نیچے گھسا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے نکال دیا گیا اور تصویر کا سر کاٹ دیا گیا تاکہ وہ درخت کی طرح ہوجائے اور پردے کے تکیے بنالیے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10193]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج مجاهد بن جبر القرشي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام في التفسير والعلم | |
👤←👥يونس بن أبي إسحاق السبيعي، أبو إسرائيل يونس بن أبي إسحاق السبيعي ← مجاهد بن جبر القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← يونس بن أبي إسحاق السبيعي | ثقة حافظ إمام |
مجاهد بن جبر القرشي ← أبو هريرة الدوسي