یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسند ابي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 11090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَتَحَ خَوْخَةً لَهُ، وَعِنْدَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَخَرَجَتْ عَلَيْهِمْ حَيَّةٌ، فَأَمَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِقَتْلِهَا، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ أَنْ يُؤْذِنَهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُنَّ".
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی کھڑکی کھولی، تو وہاں سے ایک سانپ نکل آیا، اس وقت وہاں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سانپ کو مارنے کا حکم دیا، اس پر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ انہیں مارنے سے پہلے مطلع کردیا جائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 11090]
حکم دارالسلام: إسناده حسن فى الشواهد، هشام بن سعد وهو المدني،فيه ضعف
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله زيد بن أسلم القرشي ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥هشام بن سعد القرشي، أبو سعيد، أبو عباد، أبو سعد هشام بن سعد القرشي ← زيد بن أسلم القرشي | صدوق له أوهام | |
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد محمد بن عبد الله الزبيرى ← هشام بن سعد القرشي | ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري |
Musnad Ahmad Hadith 11090 in Urdu
زيد بن أسلم القرشي ← أبو سعيد الخدري