مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسند ابي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 11457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَيَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ، قَالَ يَزِيدُ: تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ، وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ". قَالَ يَزِيدُ: لَا صَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَا حِنْطَةٍ بِصَاعٍ.
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں، ہم اس میں سے دو صاع کھجوریں مثلاً ایک صاع کے بدلے میں دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو صاع ایک صاع کے بدلے دینا صحیح نہیں، اسی طرح دو صاع گندم ایک صاع کے بدلے میں اور دو درہم ایک درہم کے بدلے میں دینا بھی صحیح نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 11457]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري