یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه
حدیث نمبر: 122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ ، فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَهُ، فَضَرَبَهَا، وَقَالَ: يَا أَشْعَثُ، احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْأَلْ الرَّجُلَ فِيمَ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ، وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ"، وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ.
اشعث بن قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دعوت کی، ان کی زوجہ محترمہ نے انہیں دعوت میں جانے سے روکا، انہیں یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے اپنی بیوی کو مارا، پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث! تین باتیں یاد رکھو جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہیں۔ کسی شخص سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے؟ وتر پڑھے بغیر مت سویا کرو۔ تیسری بات میں بھول گیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 122]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن المسلي
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 122 in Urdu
أشعث بن قيس الكندي ← عمر بن الخطاب العدوي