مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عن الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَتْ الْحُمَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" قَالَتْ: أُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ، فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ، فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا شِئْتُمْ؟ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَدْعُوَ اللَّهَ لَكُمْ، فَيَكْشِفَهَا عَنْكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَتَفْعَلُ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالُوا: فَدَعْهَا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بخار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیوں آئے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ «ام ملدم» (بخار) ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اہل قباء کے پاس چلے جانے کا حکم دیا، انہیں اس بخار سے جتنی پریشانی ہوئی، وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، چنانچہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بخار کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دوں اور وہ اسے تم سے دور کر دے اور اگر چاہو تو وہ تمہارے لئے پاکیزگی کا سبب بن جائے؟“ اہل قباء نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر اسے رہنے دیجئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14393]
حکم دارالسلام: رجالہ رجال الصحیح، و فی متنه غرابة ، وقد صح من حدیث عائشة عند البخاري: 1889، أن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم دعا للمدينه أن تنقل حماھا إلی الجحفة، والجحفة میقات أھل مصر والشام، وھی جنوب غرب المدينة قرب مدينة رابغ علی الساحل
الرواة الحديث:
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري