مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَانْطَلَقْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، قَالَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا اللَّهُ بِهِ أَعْلَمُ، قَالَ: قُلْتُ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنْ أَبْطَأْتُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا اللَّهُ أَعْلَمُ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى، ثُمَّ سَلَّمْتُ، فَرَدَّ عَلَيَّ، وَقَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي"، فَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کر کے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا میرے دل پر جو گزری وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے میں نے سوچا شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری تاخیر کی وجہ سے ناراض ہو گئے ہیں میں نے دوبارہ سلام کیا لیکن اب بھی جواب نہ ملا اور مجھے پہلے سے زیادہ صدمہ ہوا لیکن تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا کہ مجھے جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی البتہ میں نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے اور چہرہ قبلہ رخ نہ تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14783]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1217، م: 540
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 14783 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري