الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ ، وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سمعا سالما ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، قَالَ: أَصَابَنَا عَطَشٌ، فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَوَضَعَ يَدَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ مَاءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَثُورُ مِنْ خِلَالِ أَصَابِعِهِ، كَأَنَّهَا عُيُونٌ"، وَقَالَ عَمْرٌو وحُصَيْنٌ: كِلَاهُمَا قَالَ:" خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ"، حَتَّى وَسِعَنَا وَكَفَانَا، وَقَالَ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟، قَالَ: كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ، وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر ہمیں پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے میں اپنے دست مبارک کو رکھ دیا اور فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر یہ پانی لو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان چشموں کی طرح پانی ابلنے لگا ہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے فرمایا: پندرہ سو اور اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو تب بھی وہ پانی ہمارے لئے کافی ہوتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14933]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3576، م: 1856
الرواة الحديث:
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري