مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: وَاللَّهِ لَا نُكَنِّيكَ بِهِ أَبَدًا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْنَى عَلَى الْأَنْصَارِ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام قاسم رکھنا چاہا تو انصار نے کہا کہ واللہ ہم تو تمہیں اس نام کی کنیت سے نہیں پکاریں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بات پتہ چلی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار نے خوب کیا میرے نام پر اپنانام رکھ لیا لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کر و۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14973]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133
الرواة الحديث:
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري