الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
551. حديث عمرو بن العاص عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 17778
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ". فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ، فَمَاذَا؟! قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ" . فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: دُحِضْتَ فِي بَوْلِكَ، أَوَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ , جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا. أَوْ قَالَ: بَيْنَ سُيُوفِنَا.
محمد بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ، حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کر دے گا؟ یہ سن کر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اناللہ پڑھتے ہوئے گھبرا کر اٹھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ تو شہید ہوگئے، لیکن تمہاری یہ حالت؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اپنے پیشاب میں گرتے، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے خود قتل کیا ہے، وہی انہیں لے کر آئے اور ہمارے نیزوں کے درمیان لا ڈالا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17778]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عمرو بن حزم الأنصاري ← عمرو بن العاص القرشي