مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
950. حديث أبى ذر الغفاري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 21451
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَقْنَعِ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُ حِينَ يَرَوْنَهُ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا يُفِرُّ النَّاسَ؟ قَالَ: إِنِّي أَنْهَاهُمْ عَنِ الْكُنُوزِ بِالَّذِي كَانَ يَنْهَاهُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
احنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں تھا کہ ایک آدمی پر نظرپڑی جسے دیکھتے ہی لوگ اس سے کنی کترانے لگتے تھے میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ ہوں میں نے ان سے پوچھا کہ پھر یہ لوگ کیوں آپ سے کنی کترا رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا میں انہیں مال جمع کرنے سے اسی طرح روکتا ہوں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روکتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21451]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الرواة الحديث:
الأحنف بن قيس التميمي ← أبو ذر الغفاري