مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
952. حديث زيد بن خالد الجهني رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 21686
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ , عَن أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ , فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً , فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا , فَأَدِّهَا إِلَيْهِ , وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا , ثُمَّ كُلْهَا , فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا , فَأَدِّهَا إِلَيْهِ" .
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! اگر مجھے گری پڑی کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہوئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو اور اس دوران اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو ورنہ وہ تمہاری ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21686]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
الرواة الحديث:
بسر بن سعيد الحضرمي ← زيد بن خالد الجهني