مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
976. حديث أبى أمامة الباهلي
حدیث نمبر: 22227
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ , فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخْدِمْنَا , فَقَالَ: " خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ" , فَقَالَ: خِرْ لِي , قَالَ:" خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ , فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ , وَإِنِّي قَدْ نَهَيْتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ" , وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ الْغُلَامَ الْآخَرَ , فَقَالَ:" اسْتَوْصِ بِهِ خَيْرًا" , ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ , مَا فَعَلَ الْغُلَامُ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ؟" , قَالَ: أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ خَيْرًا , فَأَعْتَقْتُهُ .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لائے تو ان کے ہمراہ دو غلام بھی تھے جن میں سے ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا اسے مارنا نہیں کیونکہ میں نے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا ہے اور اسے میں نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرا غلام حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کودے دیا اور فرمایا میں تمہیں اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں انہوں نے اسے آزاد کردیا ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا وہ غلام کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مجھے اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی تھی لہٰذا میں نے اسے آزاد کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22227]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل أبى غالب البصري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامة | صحابي | |
👤←👥حزور الباهلي، أبو غالب حزور الباهلي ← صدي بن عجلان الباهلي | صدوق يخطئ | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← حزور الباهلي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
حزور الباهلي ← صدي بن عجلان الباهلي