مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1038. حديث شيخ من بني سليط رضي الله عنه
حدیث نمبر: 23214
حَدَّثَنَا عُمَرُ بنُ سَعْدٍ أَبو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابنَ أَبي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بنُ طَارِقٍ ، عَنْ بلَالِ بنِ يَحْيَى ، عَنِ عِمْرَانَ بنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: أَخْبرَنِي أَعْرَابيٌّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَخَافُ عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا"، قُلْتُ: مَا لَهُمْ؟ قَالَ:" أَشِحَّةٌ نَحِرَةٌ، وَإِنْ طَالَ بكَ عُمْرٌ، لَتَنْظُرَنَّ إِلَيْهِمْ يَفْتِنُونَ النَّاسَ، حَتَّى تَرَى النَّاسَ بيْنَهُمْ كَالْغَنَمِ بيْنَ الْحَوْضَيْنِ، إِلَى هَذَا مَرَّةً، وَإِلَى هَذَا مَرَّةً" .
ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے قریش کے متعلق خود انہی سے خطرہ ہے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا مطلب؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم انہیں یہاں دیکھو گے اور عام لوگوں کو ان کے درمیان ایسے پاؤ گے جیسے دو حوضوں کے درمیان بکریاں ہوں جو کبھی ادھر جاتی ہیں اور کبھی ادھر۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23214]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمران بن حصين
الرواة الحديث:
عمران بن حصين الأزدي ← اسم مبهم