الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1117. حديث المقداد بن الأسود رضي الله عنه
حدیث نمبر: 23825
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ الْبَكْرِيِّ ، قَالَ: تَذَاكَرَ عَلِيٌّ ، وَعَمَّارٌ ، وَالْمِقْدَادُ الْمَذْيَ، فقال علي: إني رجل مذاء، وإني أستحي أن أسأله من أجل ابنته تحتي، فقال لأحدهما لعمار أو للمقداد، قَالَ عَطَاءٌ: سَمَّاهُ لِي عَائِشٌ فَنَسِيتُهُ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " ذَاكَ الْمَذْيُ، لِيَغْسِلْ ذَاكَ مِنْهُ"، قُلْتُ: مَا ذَاكَ مِنْهُ؟ قَالَ: ذَكَرَهُ" وَيَتَوَضَّأْ فَيُحْسِنْ وُضُوءَهُ أَوْ يَتَوَضَّأْ مِثْلَ وُضُوئِهِ لِلصَّلَاةِ وَيَنْضَحْ فِي فَرْجِهِ" أَوْ" فَرْجَهُ" .
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کا حکم پوچھو جو اپنی بیوی سے " کھیلتا " ہے اور اس کی شرمگاہ سے مذی کا خروج ہوتا ہے جو " آب حیات " نہیں ہوتی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز والا وضو کرلے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23825]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عائش بن أنس
الرواة الحديث:
عمار بن ياسر العنسي ← المقداد بن الأسود الكندي