مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1135. حديث عوف بن مالك الأشجعي الأنصاري رضي الله عنه
حدیث نمبر: 24005
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ مَسْجِدَ حِمْصَ، قَالَ: وَإِذَا النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْجَمَاعَةُ؟ قَالُوا: كَعْبٌ يَقُصُّ، قَالَ: يَا وَيْحَهُ، أَلَا سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ؟!" .
ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور ذوالکلاع مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کے پاس تو آپ کا بھتیجا (کعب احبار) ہے ذوالکلاع نے کہا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے بہترین آدمی ہے حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 24005]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 24005 in Urdu
كثير بن مرة الحضرمي ← عوف بن مالك الأشجعي