مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1187. حديث أسماء بنت أبى بكر الصديق رضي الله عنهما
حدیث نمبر: 26947
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ أَخُو الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ مِنْكُنَّ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى نَرْفَعَ رُءُوسَنَا" كَرَاهَةَ أَنْ يَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ لِصِغَرِ أُزُرِهِمْ، وَكَانُوا إِذْ ذَاكَ يَأْتَزِرُونَ بِهَذِهِ النَّمِرَةِ.
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ سجدے سے اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھایا کرے جب تک ہم مرد اپنا سر نہ اٹھالیں، دراصل مردوں کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ خواتین کی نگاہ مردوں کی شرمگاہ پر نہ پڑیں اور اس زمانے میں لوگوں کا تہبند یہ چادریں ہوتی تھیں۔ (شلواریں نہیں ہوتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26947]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام مولاة أسماء، وقد اختلف على عبدالله بن مسلم فيه
الرواة الحديث:
مولى أسماء بنت أبي بكر ← أسماء بنت أبي بكر القرشية